تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 403
تاریخ احمدیت۔جلد 24 403 سال 1967ء ۲۵ کے قریب افراد مشن ہاؤس میں برائے حصول معلومات آئے۔ان سب سے اسلام اور عیسائیت پر گفتگو ہوتی رہی جو کافی دلچسپی کا باعث رہی۔روانگی کے وقت مزید مطالعہ کے لئے ان کو لٹریچر دیا گیا۔مقامی روزانہ اخبار میں ہماری جماعت کے بارے میں ہفت وار اشتہار باقاعدگی سے چھپتا رہا۔جس کو پڑھ کر کئی ایک احباب نے فون پر کال کر کے معلومات حاصل کیں۔اور کئی دوسرے دوست مشن ہاؤس میں آئے۔امریکہ کی احمدی جماعتوں کی طرف سے ایک الوداعی تقریب ۲۲ اکتوبر ۱۹۶۷ء کو امریکہ کے احمد یہ مشنوں کے انچارج مکرم عبدالرحمن خاں صاحب بنگالی کے اعزاز میں پٹس برگ امریکہ نے ایک الوداعی دعوت کا انعقاد کیا۔اس میں امریکہ کی تمام جماعتوں کے نمائندگان کو مدعو کیا گیا تھا۔تا کہ وہ خود حاضر ہو کر اپنے سابق انچارج کو الوداع کہ سکیں۔تقریب میں شمولیت کے لئے ۲۱ /اکتوبر کو ہی مختلف مقامات سے احباب کرام آنا شروع ہو گئے تھے۔رات پونے بارہ بجے اجلاس شروع ہوا جس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا اس کے بعد مکرم احمد شہید صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ پٹس برگ نے جلسہ کے انعقاد پر روشنی ڈالی اور مکرم خاں صاحب کی خدمات کو سراہا۔اس کے بعد تمام مشنوں سے آئے ہوئے نمائندگان نے باری باری آکر اپنے جذبات و خیالات کا اظہار کیا۔اس کے بعد خاں صاحب نے احباب کا شکریہ ادا کیا اور احباب کو ضروری نصائح فرمائیں۔آخر میں صدر صاحب اجلاس نے مختصر خطاب کیا اور اس طرح جلسہ کی کارروائی اختتام پذیر ہوئی۔انڈونیشیا 48 انڈونیشیا میں ۱۹۵۰ء سے قریباً ہر سال سالانہ کا نفرنس منعقد ہوتی چلی آرہی تھی۔کانفرنس میں جلسہ سالانہ اور مجلس مشاورت دونوں کا ہی انعقاد ہوتا تھا۔لیکن جماعت کی تعداد اور دوسرے امور کو مد نظر رکھتے ہوئے ۱۹۶۴ء کی سالانہ کانفرنس منعقدہ سویابا یا میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مرکز احمدیت کے تتبع میں جلسہ سالانہ اور مجلس مشاورت کے اجتماعات علیحدہ علیحدہ انعقاد پذیر ہوں۔اس فیصلہ کے مطابق اس سال اپریل ۱۹۶۷ء کے آخر میں جماعتہائے احمد یہ انڈونیشیا کی پہلی سالانہ مجلس مشاورت منعقد