تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 23 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 23

تاریخ احمدیت۔جلد 24 مجالس موصیان کا قیام 23 سال 1967ء اس سال کے اہم واقعات میں مجالس موصیان کا قیام خاص طور پر قابل ذکر ہے۔جس کے بارے میں حضور نے سالانہ جلسہ ۱۹۶۷ء کے موقع پر مفصل اعلان فرمایا تھا۔اس سلسلہ میں مولانا ابوالعطاء صاحب صدر مجلس کار پرداز بہشتی مقبرہ کی طرف سے حسب ذیل نوٹ شائع ہوا:۔حضور انور کے تازہ ارشادات کی روشنی میں مندرجہ ذیل مزید ہدایات کا اعلان کیا جاتا ہے۔ا۔جس جگہ کم از کم دو موصی ہوں وہاں بھی مجلس قائم کی جائے۔۲۔انتخاب صدر مجلس موصیان کے لئے کورم ۱۰۰/۱۰۰ ہے۔صرف بیمار اور مسافر اور معذور کا استثناء ہوگا۔رپورٹ میں حاضرین کی تعداد درج کی جائے۔بقایا دارموصی بھی انتخاب میں رائے دیں گے۔مگر بطور صدر منتخب نہ ہوں گے۔۳۔موصیان کا صدر منتخب کرا کے امیر جماعت یا پریذیڈنٹ صاحب اطلاع دیں گے۔یہ اطلاع یا رپورٹ صدر مجلس بہشتی مقبرہ ربوہ کے نام بھیجی جائے۔اس انتخاب کو بعدازاں نظارت علیا کی وساطت سے حضرت خلیفہ اسیح کی منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔۴۔حضورانور کی منظوری کے بعد صدر مجلس موصیان مقامی مجلس عاملہ کارکن بھی قرار پائے گا۔مستورات کی مجلس موصیات کی صدر صاحبہ نائب صدر کہلائیں گی۔ہر دو مجالس کی میٹنگ الگ الگ ہوا کرے گی تا کہ حضورانور کے پروگرام کو عملی جامہ پہنایا جائے۔۵۔قیام مجلس موصیان اور انتخاب صدر کے لئے جماعتوں کے مقامی صدر صاحبان اور امراء صاحبان اضلاع اور مربیان سلسلہ احمدیہ ذمہ دار ہیں۔زیادہ سے زیادہ تین ماہ کے اندراندر انتخابات مکمل ہونے لازمی ہیں۔۶۔اس سلسلہ میں ریکارڈ اور مزید کارروائی دفتر بہشتی مقبرہ ربوہ کے ذریعہ ہوگی۔میر عثمان علی خاں آصف جاہ ہفتم شاہ دکن کی وفات دگن کی دولت آصفیہ کے آخری فرمانروا نظام نواب میر عثمان علی خان بہادر اس سال ۲۴ فروری ۱۹۶۷ء کو انتقال کر گئے۔اُن کی وفات سے دکن کی مسلم تاریخ کا سنہری باب ختم ہو گیا۔سید نا حضرت مصلح موعود نے اپنی