تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 386
تاریخ احمدیت۔جلد 24 386 سال 1967ء اس اجلاس میں حضرت مصلح موعود کا ایک پیغام ( ریکارڈنگ مشین پر ریکارڈ شدہ ) سنایا گیا۔اس کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی آواز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض ٹیپ شده اقتباسات مائیک پر حاضرین کو سنائے گئے۔اور آخر میں محترم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے اختتامی خطاب فرمایا۔جس کے بعد یہ مبارک جلسہ اپنے اختتام کو پہنچا۔جماعت احمد یہ جتند رنگر ( سندر بن ) کا پہلا جلسہ سالانہ 20 جماعت احمدیہ جتندر نگر (سندر بن ) مشرقی پاکستان کا پہلا جلسہ سالانہ ۶ ، ۷ مارچ ۱۹۶۷ء کو منعقد ہوا۔یہ جماعت ڈھاکہ سے دریا کے راستے تقریباً ساڑھے تین سو میل کے فاصلہ پر سندر بن سے ملحقہ علاقہ میں واقعہ ہے۔یہ جماعت اس وقت ساڑھے پانچ صد نفوس پر مشتمل ہے۔جلسہ کی حاضری پانچ ہزار تھی۔جن میں زیادہ تر ہندو د دوست شامل تھے۔اس دوروزہ سالانہ جلسہ میں دو اجلاس عام سوال وجواب کی صورت میں تین خصوصی اجلاس اور ایک تربیتی اجلاس منعقد ہوا۔حضرت مولانا ابو العطاء جالندھری صاحب بطور مرکزی نمائندہ اس جلسہ میں شامل ہوئے۔مشرقی پاکستان کے جو احباب اس جلسہ میں شامل ہوئے ان کے نام درج ذیل ہیں۔مکرم مولا نا محمد صاحب صوبائی امیر ، مکرم چوہدری احمد توفیق صاحب سابق ریجنل قائد مجلس خدام الاحمدیہ مشرقی پاکستان، مکرم چوہدری محمد شریف صاحب ڈھلوں آف شیخو پورہ حال سلہٹ، مکرم عبدالستار صاحب اور مکرم احمد صادق محمود صاحب مربی سلسلہ مقیم ڈھا کہ۔علاوہ ازیں جسور سے مکرم میجر ملک عبد الرحمان صاحب آف دوالمیال مع اہل خانہ شامل جلسہ ہوئے۔مرکزی نمائندہ کے علاوہ مکرم مولانا محمد صاحب ، کرم احمد صادق محمود صاحب مربی سلسلہ اور مکرم چوہدری احمد توفیق صاحب نے اس جلسہ میں تقاریر کیں۔حکومت پاکستان کے چیف پارلیمنٹری سیکرٹری ربوہ میں حکومت پاکستان کے چیف پارلیمینٹری سیکرٹری اور چیف وہپ اور آل پاکستان کونسل آف تزئین القرآن کے صدر جناب الحاج عبد اللہ ظہیر الدین لال میاں مع اپنی بیگم صاحبہ مورخہ سے مارچ ۱۹۶۷ء کو ربوہ تشریف لائے۔آپ نے یہاں امام جماعت احمد یہ سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث سے ملاقات