تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 379
تاریخ احمدیت۔جلد 24 379 سال 1967ء ۲۔انجینئر نگ یونیورسٹی لاہور کے کانووکیشن منعقدہ ۱۸ مئی ۱۹۶۷ء میں گورنر مغربی پاکستان جنرل محمد موسیٰ نے جن طلباء کو ڈگریاں عطا کیں ان میں دس احمدی طلباء بھی شامل تھے۔ان دس احمدی طلباء میں سے طاہر احمد ملک صاحب ( حال امیر جماعتہائے احمد یہ ضلع لاہور) نے چھ گولڈ میڈل اور ایک انعام حاصل کر کے یونیورسٹی میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔وہ سول انجینئر نگ میں اوّل قرار پائے اور ایک مضمون میں انہوں نے خصوصی امتیاز حاصل کیا۔اسی طرح کریم احمد صاحب طاہر نے مائننگ انجینئر نگ کے فائنل امتحان میں اول پوزیشن حاصل کر کے طلائی تمغہ حاصل کیا۔مزید بر آن ظفر احمد صاحب تالپور بھی مکینیکل انجینئر نگ میں طلائی تمغہ کے حقدار ٹھہرائے گئے اور انہوں نے ایک مضمون میں خصوصی امتیاز حاصل کیا۔-۳- محمد داؤد طاہر (مولانا محمد یعقوب صاحب طاہر انچارج شعبہ زود نویسی کے بیٹے ، حال ریٹائر ڈ ڈپٹی کمشنر انکم ٹیکس ) طالب علم تعلیم الاسلام کالج ربوہ کو بی۔اے کے عربی اور انگریزی کے پر چوں میں پنجاب یونیورسٹی میں اول آنے پر دو طلائی تمغوں ، اور گولڈ میڈل اور امرت لعل رائے گولڈ میڈل کا مستحق قرار دیا گیا۔اس نمایاں کامیابی پر انہیں کالج کی طرف سے ایک نقرئی تمغہ دیا گیا۔۴۔محترمہ بشری ذہین صاحبہ بنت مرز انثار احمد صاحب فاروقی آف پشاور نے پشاور بورڈ کے میٹرک کے امتحان میں ۱۳ے نمبر حاصل کر کے جملہ طالبات میں اول پوزیشن حاصل کی۔۵۔جناب عطاء المجیب صاحب را شد ایم۔اے (حال انچارج احمد یہ مشن انگلستان ) ابن مولانا ابوالعطاء صاحب کو فاضل عربی کے امتحان میں پنجاب بھر میں اول آنے پر بورڈ آف سیکنڈری ایجو کیشن لاہور کی طرف سے NATIONAL TALENT SCHOLAR ہونے کا طلائی تمغہ انعام ملا۔۶۔محترمہ امۃ الحکیم صاحبہ بنت چوہدری سلطان احمد طاہر صاحب نے کراچی یونیورسٹی سے ایم۔ایس سی زوالوجی کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔اور یو نیورسٹی میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ے۔سردار حفاظت احمد صاحب ابن حضرت سردار عبدالرحمن صاحب ( مہر سنگھ ) کو حسن کا کردگی کی بناء پر واپڈا کی طرف سے گولڈ میڈل دیا گیا۔۲۴٬۲۳-۸ جنوری ۱۹۶۷ء کو ملتان میں منعقد ہونے والے دوسرے آل پاکستان انٹرسکول مباحثہ میں تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ نے انگریزی اور اردو دونوں مقابلوں میں بخاری رنگ شیلڈز