تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 369
تاریخ احمدیت۔جلد 24 369 سال 1967ء لئے کئی خطوط بھیجے لیکن آپ نے کبھی ان لوگوں کی پرواہ نہ کی اور خدا سے دعائیں کرتے رہے۔حضرت قاضی محمد یوسف صاحب پروانشنل امیر سابق صوبہ سرحد کی بڑی خواہش تھی کہ کسی طرح نوشہرہ میں احمدیہ مسجد تعمیر ہو جائے چنانچہ آپ تاحیات اس بات کی کوشش کرتے رہے۔آپ جماعت کے چندوں کا حساب بہت احتیاط سے رکھتے اور ایک پائی ادھر اُدھر نہ ہونے دیتے۔مقامی سیکرٹری صاحب مال کی رپورٹ ہے کہ جس طریق سے آپ حساب رکھتے۔مرکز سے آنے والے انسپکٹر ان کو چیک کرنے میں بہت آسانی ہوتی اور وہ آپ کے طریق کو نقل کر کے لے جاتے۔حضرت قاضی محمد یوسف صاحب اپنی کتاب تاریخ احمدیت ( ضلع پشاور ) میں لکھتے ہیں:۔و جس طرح حکومت کو انکم ٹیکس دیانتداری سے ادا کرتے ہیں اور حکام ان کے حسابات رکھنے کی تعریف کرتے ہیں اسی طرح جماعت کی مختلف مدات میں چندہ ادا کرتے ہیں اور موصی بھی ہیں۔“ جب بھی مرکز سے کوئی مربی یا انسپکٹر وغیرہ تشریف لاتے انہیں اپنے ہاں ٹھہراتے اور خوشی محسوس کرتے۔مہمان کے آرام کا اور جماعت کی طرف سے کوئی ذمہ داری آپ کو ملتی تو اس وقت تک آپ کو چین نہ آتا جبکہ اس ذمہ داری کو نبھا نہ لیتے۔آپ سماجی بہبود کے کاموں میں بھی بہت حصہ لیتے۔چنانچہ آپ مختلف سوسائیٹیوں اور انجمنوں کے صدر یا سیکرٹری رہے۔اس کے علاوہ آپ انجمن تعلیم القرآن کے سیکرٹری بھی رہے۔انہی خدمات کے باعث اہالیانِ نوشہرہ آپ کی عزت کرتے اور حاکم وقت نے آپ کی ان سماجی بہبود کی خدمات کے سلسلے میں تمغہ عطا فر مایا۔۱۹۴۴ء میں آپ کو صوبہ سرحد کا (پراونشنل امیر ) مقرر کیا گیا اور چند سال تک آپ کو اس عہدہ پر بھی خدمت دین کی سعادت نصیب ہوئی۔اپنے پاس دوائیاں رکھتے اور محلہ کے ضرورتمندوں کو دیتے۔اگر کوئی مشکل میں ہوتا اور آپ کو پتہ چل جاتا تو اس کے پاس جاتے اور دلجوئی فرماتے تھے۔بچوں سے ہمیشہ نرمی سے پیش آتے تھے۔آپ باتوں باتوں میں سمجھاتے اور کام کی بات بتاتے۔آپ کا سمجھانے کا ڈھنگ بہت نرالا تھا۔حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ اور آپ کے آئمہ کی کتب اور تقریروں کا غور سے مطالعہ کرتے اور ان کی جلدوں کو سنبھال کر رکھتے۔جماعت کے تمام رسائل و اخبار منگواتے۔اگر چہ آپ کی نظر آخری چند سالوں میں کمزور ہوگئی تھی۔لیکن فجر اور مغرب کی نماز پڑھنے ضرور