تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 367
تاریخ احمدیت۔جلد 24 367 سال 1967ء آپ کے پوتے مرزا مبارک احمد صاحب نے آپ کے سوانح حیات اور سلسلہ اور ملک وملت کی خدمات سے متعلق حسب ذیل مفصل مضمون تحریر کیا جس میں وہ لکھتے ہیں کہ آپ مؤرخہ ۱۳ مارچ ۱۸۹۶ء کو موضع پنڈی لالہ ضلع گجرات کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد صاحب کا نام اللہ دتہ تھا جو اپنی خوش اخلاقی اور دیانت داری کی وجہ سے گاؤں میں ہر دلعزیز تھے۔مرزا غلام حیدر صاحب ان کے بارہ میں اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ علم سے بہت پیار رکھتے تھے۔اور آپ کی دلی خواہش تھی کہ میری اولاد علم حاصل کرے۔چنانچہ آپ نے تینوں بیٹوں مرزا غلام نبی صاحب ،مرزا غلام رسول صاحب اور مرزا غلام قادر صاحب کو اپنی زندگی میں مدرسہ میں بٹھلایا۔حالات زمانہ کچھ زیادہ موافق نہ تھے۔باہر سے کسی امداد کی توقع نہ تھی۔بے سروسامانی کی حالت میں تنگیوں کا آنا کوئی مشکل امر نہ تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے صبر واستقلال کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھر دیا تھا۔ایک طرف اگر انتہائی قربانی اور ایثار سے کام لیا۔تو دوسری طرف خدائے برتر و بزرگ سے دست بد عار ہے۔آپ کی درد بھری دعائیں بارگاہ الہی میں سنی گئیں اور آخر کار رنگ لائیں۔آپ نے اپنی آنکھوں سے اپنے نور چشموں کو علم کے نور سے منور دیکھا۔آخری ایام میں بخار سے بیمار ہوئے۔آٹھ یوم بیمار رہ کر ۱۵ جون ۱۹۰۳ ء اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔“ جب مرزا غلام حید ر صاحب کے والد صاحب کی وفات ہوئی تو آپ کی عمر صرف سات سال تھی۔آپ کو چند ماہ بعد اپنے دوسرے بھائی غلام قادر صاحب کی وفات کا بھی صدمہ برداشت کرنا پڑا۔آپ نے اپنے بڑے بھائی حضرت مرزا غلام نبی صاحب اور پھر حضرت مرزا غلام رسول صاحب کے زیر سایہ تعلیم حاصل کی۔خدا نے آپ کو ایک اچھا ذ ہن عطا کیا تھا۔اور پھر آپ کے والد صاحب کی دعا ئیں بھی تھیں۔آپ ہمیشہ اپنی کلاس میں اول آتے اور وظیفہ حاصل کرتے۔چنانچہ چھٹی سے بی اے تک تعلیمی وظائف حاصل کرتے رہے۔بچپن سے ہی ورزش کے عادی تھے اور کھیلوں سے دلچسپی رکھتے چنانچہ سکول میں اور پھر کالج میں آپ گیموں میں حصہ لیا کرتے کالج میں ہا کی ٹیم کے کپتان بھی رہے۔یہی وجہ تھی کہ آپ کی صحت شروع ہی سے اچھی رہی۔فرماتے تھے کہ ایک دفعہ گاؤں کے سکول کے لڑکے ہاکی کھیل رہے تھے۔اور میں ایک طرف کھڑا ان کو دیکھ کر محظوظ ہورہا تھا۔اتنے میں بڑے بھائی جان کا ادھر سے گزر ہوا انہوں نے سختی سے فرمایا دیکھتے کیوں ہو۔کھیلو! فرماتے کہ اسی دن سے میں نے کھیلوں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔