تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 364
تاریخ احمدیت۔جلد 24 364 سال 1967ء مرحوم بہت خوش اخلاق ، نیک اور فدائی احمدی تھے۔خاندانِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بہت محبت و اخلاص کا تعلق تھا۔سلسلہ کی مالی تحریکات میں پیش پیش رہے۔فٹ بال اور بیڈ منٹن کے نامی کھلاڑی تھے۔اور ائل جوانی میں قیام دہلی کے دوران فٹ بال میں بہت نام پیدا کیا۔چوٹی کے کھلاڑی شمار ہوتے تھے۔اور فائنل مقابلوں میں اکثر گول آپ ہی کیا کرتے تھے۔چوہدری غلام حسین صاحب اوورسیر ولادت: ۱۹۰۷ ء بیعت: ۱۹۲۵ء وفات: ۱۹ جولائی ۱۹۶۷ء 129 محترم چوہدری صاحب دنیاوی لحاظ سے کوئی زیادہ تعلیمیافتہ نہ تھے۔مگر احمدیت قبول کر لینے کے بعد ان کی ذہنی خفتہ طاقتیں جاگ اٹھی تھیں وہ اعتماد یقین اور شرح صدر کے ساتھ دینی معاملات میں اپنی رائے دیتے اور ان کی رائے بڑا وزن رکھتی تھی۔منٹگمری میں جماعتی تنظیم خصوصا نو جوانوں کی تنظیم کا کام ان کے سپرد کیا گیا۔تو انہوں نے جماعت کے نوجوانوں میں زندگی کی ایک نئی روح پھونک دی۔سلسلہ کے ہر کام کے لیے اپنے آپ کو پیش کرتے اور جو کام بھی اُن کے سپرد کیا گیا۔پوری ذمہ داری کے ساتھ اس کو پورا کیا۔سرکاری ملازمت میں سوائے دنیا داری کے ان کو اور کچھ نظر نہ آیا اس لیے بالآخر ملازمت از خود ترک کردی اور اپنا سارا وقت سلسلہ کے کاموں کے لیے وقف کر دیا۔حضرت المصلح الموعود کو ان کے حالات کا علم ہوا اور حضور کی جو ہر شناس نظروں نے ان کی خوبیوں کو بھانپ لیا۔حضور نے ان کو مرکز احمدیت قادیان میں آجانے کا ارشاد فرمایا۔حضور کئی ذمہ داریوں کے کام ان کے سپرد کرتے۔چوہدری صاحب حضور کے ارشاد کو جز و ایمان سمجھ کر ان کی تعمیل کرتے اور حضور کی خوشنودی حاصل کرتے۔قادیان میں بیک وقت چھ چھ سات سات عہدے ان کے سپرد رہے۔جن کو انہوں نے پورے اخلاص اور ایمانداری کے ساتھ نبھایا۔ساتھ ساتھ دین کا علم بھی سیکھتے رہے۔ناظم صاحب دارالقضاء حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب فاضل امیر جماعت احمد یہ قادیان کو ایک ایسے شخص کی تلاش تھی جو زمینوں کی پیمائش و رقبہ وغیرہ نکالنے و متعلقہ دیگر امور میں مہارت رکھتا ہو اور وہ بطور قاضی بھی کام کر سکے۔حضرت مولانا موصوف کی نظر چوہدری غلام حسین صاحب پر پڑی۔چنانچہ حضور کی منظوری سے اُن کو مرکزی قاضی مقرر کیا گیا۔ربوہ میں آکر بھی یہ کام اُن کے سپر درہا۔اللہ تعالیٰ نے ان کو اتنی فراست دی ہوئی تھی کہ واقعات کو پڑھ اور سنکر حقیقت تک پہنچ جاتے۔طرفین میں سے کسی کے بیان سے متاثر ہونا ان کی فطرت میں نہ تھا۔فیصلہ مختصر مگر جامع الفاظ میں لکھتے۔محترم