تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 360
تاریخ احمدیت۔جلد 24 360 سال 1967ء اور مطالعہ میں وقت گزارتے۔بزرگان سلسلہ اور درویشان قادیان اور ربوہ سے خاص عقیدت تھی۔اکثر جب بھی موقع ملتا تو ربوہ جاتے اور خلیفہ وقت سے ضرور ملاقات کرتے۔اکثر اشیاء ربوہ سے خریدتے تا کہ احمدی بھائیوں کو فائدہ پہنچے۔اسی طرح جہاد میں جانے کا آپ کو بہت شوق تھا۔اس قدر جذ بہ اور ولولہ تھا کہ ۱۹۶۵ء کی جنگ میں پورے وثوق سے گھر کہہ گئے تھے کہ میری واپسی کا انتظار نہ کرنا میرے وطن کو میری ضرورت ہے۔وہاں سے جو خط گھر لکھا اس میں بھی یہی لکھا تھا کہ آج میرے پر یہ راز کھلا ہے کہ وطن کی محبت سب چیزوں سے افضل ہے۔اسی طرح راجستھان سیکٹر میں جنگ بندی کے بعد آپ کو لیزاں آفیسر مقرر کیا گیا۔آپ یو۔این۔او۔والوں کے ہمراہ ہندوستان اور پاکستان ہر دو جگہ میٹنگز اٹینڈ کرتے تھے۔ہندوستانی فوجی افسروں نے پاکستانی فوجی افسروں کو تحفتہ چائے کی پتی پیش کی لیکن آپ نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا کہ پاکستان میں ہر قسم کی چائے مل جاتی ہے۔ایک موقع پر کہنے لگے کہ جنگ اسلحے سے نہیں ہوتی جذبے سے لڑی جاسکتی ہے۔آپ کا جنازہ سرگودھا سے ربوہ لایا گیا۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے جمعہ کی نماز کے بعد نماز جنازہ پڑھائی۔10 محمد عمر خان صاحب یاردانی وفات ۸ مارچ ۱۹۶۷ء بعمر ۷۰ سال آپ سکنہ باٹھی اندر پہاڑ کوہ سلیمان کے رہنے والے تھے۔۱۹۲۸ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں شامل ہوئے۔آپ ضلع ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقہ کے سب سے پہلے احمدی تھے۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سچے عاشق اور احمدیت کے فدائی تھے۔وفات سے چند روز پہلے بستی رنداں میں وقف عارضی کر کے آئے تھے۔آپ مکرم عبد الماجد امجد صاحب ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ مڈل سکول ہیرو شرقی کے خسر تھے۔بیوہ کے علاوہ چار بچے یاد گار چھوڑے۔حضرت سیدہ شوکت سلطانہ صاحبہ 120 ولادت: ۱۸۸۷ء بیعت: ۴ را گست ۱۹۳۸ء 2 وفات : ۲۰ مارچ ۱۹۶۷ء