تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 358
تاریخ احمدیت۔جلد 24 358 ۱۹۶۷ء میں وفات پانے والے مخلصین جماعت حاجی امیر عالم صاحب آف کوٹلی آزاد کشمیر وفات : یکم جنوری ۱۹۶۷ء سال 1967ء ۱۹۱۸ء میں مولوی عبدالحق صاحب و یار تھی۔۔( غیر مبائع) اور پنڈت رام چندر دہلوی کا راولپنڈی میں مناظرہ ہوا۔جس سے آپ کے قلب پر احمدیوں کی قوت گویائی اور خدمتِ اسلام کا گہرا اثر پڑا۔۱۹۲۴ء میں آپ نے مولوی محمد علی صاحب کی بیعت کی۔مگر جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو بذریعہ خواب راہنمائی کی گئی تو بالآخر حضرت مصلح موعود کی بیعت کا شرف حاصل کر کے داخل جماعت احمد یہ ہو گئے اور جلد جلد اخلاص اور تقویٰ میں ترقی کرنے لگے۔آپ کو حضرت مصلح موعود نے آزاد کشمیر کی احمدی جماعتوں کا اولین امیر مقرر فرمایا۔مسجد احمدیہ کوٹلی آپ کی اور آپ کے بھائی منشی دانشمند خاں صاحب کی وقف کردہ اراضی پر تعمیر ہوئی۔ڈوگرہ حکومت اور بالخصوص آزاد کشمیر کے دور میں آپ کو نہایت شاندار اور بے لوث خدمات کی سعادت حاصل ہوئی۔مشہور قومی کارکن خالد کاشمیری پبلسٹی سیکرٹری جموں و کشمیر محاذ رائے شماری نے اخبار ” انصاف‘ ( راولپنڈی ) میں لکھا ہے:۔حاجی صاحب ایک انتہائی پر خلوص کارکن، مذہبی عالم اور سماجی بہبود کے داعی تھے۔ان کی ساری زندگی ملک اور قوم کی خدمت میں صرف ہوئی۔تحریک آزادی کشمیر میں ان کا بھر پور کردار صفحہ تاریخ پر ہمیشہ جگمگاتا رہے گا۔انہوں نے انتہائی معمولی حیثیت سے نکل کر اپنی ذاتی محنت اور قابلیت سے بام عروج کو چھو لیا۔اور یہ واحد آدمی تھے۔جنہیں تمام علاقہ کے مرد عورت اور بچے احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔“ احمدیت اور حضرت مصلح موعود کے فدائیوں اور عاشقوں میں سے تھے۔تحریک جدید کے پانچیز اری مجاہدین میں شامل ہونے کا شرف رکھتے تھے اور موصی بھی تھے۔آپ کے بارہ میں ایک کتاب ”سیرت و سوانح ماسٹر امیر عالم صاحب مرحوم مرتبہ ڈاکٹر ظفر کلیم بھی شائع ہو چکی ہے۔