تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 352 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 352

تاریخ احمدیت۔جلد 24 352 سال 1967ء دوسرے دن جمعہ تھا۔نہال اینڈ سنز کی دکان کی جانب شمال ایک بہت بڑا احاطہ تھا اس میں حضور علیہ السلام کا لیکچر ہوا۔بہت بڑا مجمع سننے والا تھا۔مولوی محمد احسن صاحب امروہی بھی موجود تھے۔جو کہ حضور علیہ السلام کے نزدیک بیٹھے تھے۔جب دوران لیکچر کسی آیت کے حوالے کی ضرورت پڑتی تھی تو حضور فرماتے تھے کہ قرآن شریف میں اس طرح فرمایا گیا ہے۔اور مولوی صاحب سے فرماتے کہ مولوی صاحب وہ آیت کیا ہے۔وہ جھٹ وہ آیت پڑھ دیتے اور حضور وہ حوالہ دے دیتے۔اس احاطہ کے غربی جانب برآمدہ تھا۔اس کے آگے حضور کی سٹیج تھی۔جس پر حضور کھڑے ہو کر لیکچر دے رہے تھے۔برآمدے میں سے چائے کی پیالی گرم گرم حضور کے لئے سٹیج پر بھیجی جاتی تھی۔جب ایک گھونٹ دوران لیکچر میں حلق تر کرنے کے لئے حضور اس پیالی میں سے پی لیتے تو وہ پیالی پیچھے واپس آجاتی تھی اور ہم لوگ اس کو بطور تبرک پی لیتے تھے۔106 آپ کا بیان ہے کہ:۔1904 ء یا ۷ 190 ء میں میں جمعیت چوہدری فیروز خاں صاحب مرحوم و حاجی رحمت اللہ صاحب قادیان گیا۔واپس آنے کے وقت میاں بشیر احمد صاحب کے موجودہ مکان (جو اس وقت بطور مہمان خانہ استعمال ہوتا تھا) میں جا کر اس کی مشرقی سیڑھیوں پر سے اطلاع حضور علیہ السلام کو کروائی گئی۔تو حضور ایسی حالت میں تشریف لائے کہ حضور نے میض پر واسکٹ پہنی ہوئی تھی۔کوٹ نہیں تھا۔حاجی رحمت اللہ صاحب نے عرض کیا کہ حضور میں بزازی کی دوکان کھولنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔حضور کا اس معاملہ میں کیا ارشاد ہے۔حضور نے فرمایا کہ بہت اچھی بات ہے۔صحابہ بھی کپڑوں کا بیوپار کیا کرتے 107 آپ مزید فرماتے ہیں :۔مئی ۱۹۰۸ء میں ہی میں نے پاکپتن سے سول سرجن صاحب منٹگمری کو اپنی ملازمت کے لئے درخواست بھیجی۔جس نے ۶ امئی کو اپنے پیش ہونے کے لئے بلایا۔۱۵ مئی کو میں منٹگمری پہنچ گیا۔4 مئی کو میں اس کے پیش ہوا۔اس نے منظور کر کے مجھے پاکپتن ہسپتال میں کام کرنے کی اجازت دی۔وہیں منٹگمری میں معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لا ہور تشریف لائے ہوئے ہیں۔چونکہ ان دنوں منٹگمری سے پاکپٹن تک سفر یکوں پر بوجہ کچی سڑک کے نہایت دشواری سے ہوتا تھا۔اس لئے یہ خیال کر کے کہ دشوار سفر تو کر چکا ہوں۔اب صرف ریل میں بیٹھ کر جانا ہی باقی ہے۔حضرت مسیح