تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 351
تاریخ احمدیت۔جلد 24 351 سال 1967ء صاحب ریٹائر ڈ سب انسپکٹر پولیس ان دنوں قلعہ پھلور میں قانون کی تعلیم کے لئے گئے ہوئے تھے۔وہاں سے بمعہ ایک دوست چوہدری شہاب الدین صاحب آئے اور مصافحہ کیا اور عرض کیا کہ حضور یہ بھائی شہاب الدین بیعت کرنی چاہتے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ عصر کے بعد۔اس پر میرے بھائی نے عرض کیا کہ حضور ہم پھلور میں تعلیم کے لئے آئے ہوئے ہیں۔جمعرات کے روز وہاں چھٹی ہوتی ہے۔اور چار بجے شام سے پہلے ہمیں وہاں پہنچنا ضروری ہے۔اگر ہم شام تک ٹھہر جائیں تو غیر حاضر ہو جائیں گے۔حضور نے فرمایا بہت اچھا۔ابھی بیعت لے لیتے ہیں اور اسی وقت بیعت لے لی۔رات کے وقت مغرب اور عشاء کے درمیان ایک سٹیشن ماسٹر لدھیانہ کی طرف سے آئے۔اور اندر اطلاع بھجوائی۔حضور باہر تشریف لائے۔انہوں نے عرض کیا۔کہ حضور میں فلاں سٹیشن پر سٹیشن ماسٹر ہوں۔دس یا بارہ بجے جو گاڑی جاتی ہے اگر اس پر نہ جاؤں تو غیر حاضر ہو جاتا ہوں۔بیعت کرنا چاہتا ہوں آپ نے فرمایا بہت اچھا۔حضور اور وہ سٹیشن ماسٹر صاحب ، مفتی محمد صادق صاحب اور بعض اور احباب کھڑے تھے۔کوئی شخص چار پائی لینے چلا گیا۔اتنے میں ایک اندھی بوڑھی جو وہاں بیٹھی تھی۔اس کے دریافت کرنے پر کسی نے اس کو بتلایا کہ یہ حضرت صاحب کھڑے ہیں اس پر اس نے حضور کے پاؤں پکڑ لئے۔اس پر حضور فوراً پیچھے ہٹ گئے اور فرمایا کہ مائی پیر پکڑ نے گناہ ہے۔چار پائی آئی اور بچھائی گئی۔حضور نے اس سٹیشن ماسٹر سے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔انہوں نے ادب کی وجہ سے عرض کیا کہ حضور تشریف رکھیں۔اس پر حضور نے فرمایا الامر فوق الادب۔اس کے بعد وہ بیٹھ گئے اور حضور بھی بیٹھ گئے۔اور ان کی بیعت لی۔مفتی صاحب جو اکثر انگریزی اخبارات کے خلاصے وقت ملنے پر حضور کی خدمت میں عرض کیا کرتے تھے۔اس وقت بھی غالباً چار پائی کے آنے تک کے انتظار میں عرض کرنے لگ پڑے۔ایک بات جو یاد ہے وہ یہ ہے کہ مفتی صاحب نے عرض کیا کہ حضور دیسی اشیاء پر بہت زور دیا جاتا ہے۔حضور نے فرمایا کہ بات تو اچھی ہے۔بشرطیکہ اس میں بغاوت کی بو نہ ہو۔عشاء کے بعد نواب ذوالفقار علی صاحب مرحوم مالیر کوٹلہ والے حضور سے ملنے کے لئے آئے۔اس مکان کے ہال کمرہ میں حضور علیہ السلام تشریف لے آئے۔اور ان سے خیر و عافیت دریافت کرنے کے بعد حضور نے ایک لمبی تقریر فرمائی۔جس میں نہ تو نواب ذوالفقار علی صاحب کا نام تھا اور نہ ان کی طرف اشارہ تھا۔لیکن ہم جو سننے والے تھے۔یہ خیال کرتے تھے کہ تمام نقشہ ان کی روحانی حالت کا کھینچ کر ان کے سامنے رکھ دیا ہے۔