تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 350 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 350

تاریخ احمدیت۔جلد 24 350 سال 1967ء تو معلوم ہوا کہ روانگی کی تاریخ تبدیل ہو گئی ہے۔جس سے ہم کو بہت صدمہ ہوا۔ہم نے تو راتوں رات وفور محبت کی وجہ سے اتنا لمبا سفر کیا تھایا یہ حالت ہوئی کہ ایک قدم چلنا دشوار ہو گیا۔پیروں میں چھالے پڑے ہوئے تھے اور ملاقات نہ ہونے کا صدمہ تھا۔اس لئے واپسی یکوں پر ہوئی۔چند روز کے بعد پھر اطلاع ملی کہ حضور دہلی سے واپسی پر فلاں تاریخ لدھیانہ میں اتریں گے اور قیام فرمائیں گئے۔یہ رمضان ۱۹۰۵ء کا واقعہ ہے۔پھر میں جمعیت حاجی رحمت اللہ صاحب و حاجی عبداللہ صاحب و چوہدری فیروز خاں صاحب مرحوم و بابا شیر محمد صاحب یکه بان مرحوم ایک بیلی دو بیلوں والی لے کر راہوں سے لدھیانہ کو چلے جو کہ قریباً بیس میل کا فاصلہ ہے۔درمیان میں دریا کے ریتلے حصے بھی آتے تھے۔اس بیلی پر ہم چڑھتے اتر تے شام کو لدھیانہ پہنچ گئے۔حاجی رحمت اللہ صاحب کا ایک تین چار سالہ بچہ بنام غالباً فیض اللہ بھی ساتھ تھا۔وہاں جا کر معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام کل جو گاڑی نو یا دس بجے آتی ہے۔اس پر تشریف لائیں گے۔دوسرے روز گاڑی سے گھنٹہ یا ڈیڑھ گھنٹہ قبل ہی ہم سٹیشن پر پہنچ گئے۔وہاں خلقت کا بڑا ہجوم تھا۔میرے بڑے بھائی حکیم دین محمد صاحب بھی جو ان دنوں حاجی پور میں انٹریس کی تیاری کر رہے تھے۔وہاں سے آئے ہوئے تھے۔جس وقت گاڑی سٹیشن پر پہنچی حضور علیہ السلام کا ڈبہ جو کہ ریز رو تھا کاٹ کر پیچھے کی طرف دھکیلا گیا۔میں اور میرے بھائی حکیم دین محمد صاحب اس ڈبے کے ڈنڈوں کو پکڑ کر پائیدان پر چڑھ کر ڈبے کے ساتھ ہی پیچھے کی طرف چلے گئے۔چونکہ میرے بڑے بھائی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب کے کلاس فیلورہ چکے تھے اور ان کے خوب واقف تھے۔اور وہ بھی اس ڈبہ میں سوار تھے۔اس لئے ڈبہ کے ساتھ ہم کھڑے ہو کر ان سے باتیں کرتے رہے۔پھر وہ ڈبہ پلیٹ فارم پر آیا تو حضور اور حضور کی اہلیہ پلیٹ فارم پر اترے اور سٹیشن سے باہر تشریف لائے۔سٹیشن سے باہر شکرم دو گھوڑے والی جو کہ بند گاڑی ہوتی ہے، موجود تھی۔اس میں حضور سوار ہو گئے اور دروازہ بند کر لیا۔اور ہم لوگ اور بہت خلقت اس کے پیچھے پیچھے دوڑے چلے آئے۔نہال اینڈ سنز کی دکان کے پاس ایک مکان قاضی خواجہ علی صاحب مرحوم نے غالبا لے رکھا تھا جو کہ برلب سڑک تھا۔اس میں حضور نے قیام فرمایا۔برآمدہ میں حضور کرسی پر تشریف فرما ہوئے۔عام لوگ آ کر مصافحہ کرتے رہے۔حاجی رحمت اللہ صاحب نے اپنے اس تین چار سالہ بچے کے ہاتھ نذرانہ دے کر مصافحہ کرایا۔حضور نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا کہ ابت لوگ ہمیں کافر کہتے ہیں، یہ نسلیں یاد کریں گی۔میرے بڑے بھائی جان محمد