تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 349
تاریخ احمدیت۔جلد 24 349 سال 1967ء وقت میرے بھائی حکیم دین محمد صاحب بمعیت دیگر طلباء مدرسہ تعلیم الاسلام اور بابا محمد حسن صاحب والد مولوی رحمت علی صاحب مبلغ سماٹرا والے رات کو کبھی دار مسیح موعود علیہ السلام کا اور کبھی باغ کے خیموں وغیرہ کے گرد پہرہ دیا کرتے تھے۔“ قادیان میں اپنی دوسری بار آمد کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔۱۹۰۵ء میں میں جمعیت اپنے والد صاحب مرحوم و برادران حکیم غلام محمد صاحب ( شاگرد حضرت خلیفہ المسح الاول ) وحکیم دین محمد صاحب تقریب نکاح حکیم دین محمد صاحب قادیان گیا تھا۔اس موقع پر بعد نکاح ایک نئے رومال میں کچھ اخروٹ وغیرہ باندھ کر مسجد مبارک کی اندر والی سیٹرھیوں سے اوپر چڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکان کے آگے مسجد مبارک کے ساتھ جو چھوٹا سا صحن ہے اس میں کھڑے ہو کر کسی عورت کو بھیج کر حضور کو باہر تشریف لانے کے لئے عرض کیا گیا۔تھوڑی دیر کے بعد حضور علیہ السلام دروازے پر تشریف لائے۔تو میرے بھائی حکیم غلام محمد صاحب نے وہ اخروٹ والا رومال حضور کے دست مبارک میں پکڑا کر عرض کیا کہ حضور کوئی اپنا پرانا رو مال عنایت فرما دیں۔اس پر حضور نے فرمایا۔بہت اچھا۔حضور اندر تشریف لے گئے۔تھوڑی دیر کے بعد پھر یاد دہانی کے لئے کسی کو اندر بھیجا۔حضور نے ایک رومال بھیج دیا۔میرے بھائی صاحب نے اپنی اہلیہ کی فوتیدگی پر وہ رومال اس کے ساتھ ہی دفن کر دیا۔“ آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عاشق صادق تھے آپ کو حضرت اقدس کی زیارت کا کس قدر شوق رہتا تھا، اس کا اندازہ درج ذیل واقعات سے بخوبی ہو سکتا ہے۔فرماتے ہیں:۔۱۹۰۵ء میں ایک دن بوقت عصر ہم کو راہوں ضلع جالندھر کارڈ ملا کہ حضور علیہ السلام دہلی تشریف لے جارہے ہیں اور صبح آٹھ یا نو بجے کی گاڑی سے پھگواڑہ سٹیشن پر سے گزریں گے۔حاجی رحمت اللہ صاحب، چوہدری فیروز خاں صاحب مرحوم نے میری ڈیوٹی لگائی کہ تم نوجوان ہو۔اس وقت جاؤ اور جماعت کریام کو اطلاع کرو۔چنانچہ میں مغرب کے بعد چل کر کر یام پہنچ گیا۔جماعت کو اطلاع کی گئی۔وہاں سے بھی کچھ دوست ساتھ ہو لئے۔ہم سب لوگ اس طرح چل کر پھگواڑہ جو کہ راہوں سے تمہیں (۳۰) میل کے قریب دور ہے۔پہنچے اور صبح کی نماز پڑھی۔وہاں سٹیشن پر منشی حبیب الرحمن صاحب مرحوم نے حاجی پور والوں کی طرف سے احباب جماعت کے ٹھہرنے کا انتظام کیا ہوا تھا اور دن کے وقت انہی کی طرف سے کھانا آیا۔جب گاڑی کا وقت ہوا اور گاڑی آکر گزرگئی۔