تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 346
تاریخ احمدیت۔جلد 24 346 سال 1967ء آریہ سے مسلمان ہوئے تھے۔مہمان خانہ میں ٹھہرے ہوئے تھے اور ان صاحب کے متعلق معلوم ہوا تھا کہ دو ڈیڑھ ماہ سے قادیان آئے ہوئے ہیں اور حضور اس کی بیعت نہیں لیتے۔ایک صبح کو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک مکان کی تعمیر دیکھنے کو نیچے تشریف لائے۔وہ مولوی صاحب اور یہ خادم دوڑ کر وہاں آئے تو حضور مع دو تین خدام کے جو اس وقت یاد نہیں رہا کون تھے۔معماران کے قریب کھڑے کچھ ان کو بتلا رہے ہیں۔پھر مولوی صاحب نے جو میرے ساتھ گئے تھے۔حضور سے کہا کہ حضور میں نے تو کل بیعت کرنے والوں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بیعت کر لی۔حضور نے فرمایا مولوی صاحب ہم کو پتہ نہیں۔پھر فرمایا میرے راستے میں بہت کانٹے دار جھاڑیاں ہیں اور دشوار گزار راستہ ہے۔استقلال کی سخت ضرورت ہے۔اور میرے ساتھ معاملہ میں تو زیادہ ہی عزم و استقلال کی ضرورت ہے۔مولوی صاحب نے کہا کہ نہیں حضور مجھ کو تو بڑا استقلال ہے۔میں حیران تھا کہ حضور اس مولوی کو کیوں بار بار استقلال کی نصیحت فرماتے ہیں۔حالانکہ حضور کے اور مرید بھی تو ہیں۔چنانچہ جب خادم پٹیالہ واپس آیا۔تو یہ مولوی صاحب بھی خادم کے ساتھ پٹیالہ آگئے۔اور میرے مکان پر ٹھہرے۔اور دو پہر کا کھانا کھا کر شہر میں پھرنے کے لئے گئے۔تھوڑے عرصہ کے بعد قاضی سلیمان صاحب کا جو حضرت صاحب کا سخت ترین مخالف تھا۔ملازم آیا۔اور کہا کہ مولوی صاحب نے اپنا بستر منگایا ہے۔اور قاضی صاحب کے مکان پر بیٹھے ہیں۔چنانچہ وہ بسترہ لے گیا۔دوسرے دن میرے مکان کے قریب سبز منڈی میں دن کے وقت مولوی صاحب کا وعظ ہوا۔میں سُننے گیا۔تو مولوی صاحب نے حضرت صاحب کے متعلق سخت بد زبانی کی۔اور کہا کہ میں نے بیعت ویت کیا کرنی تھی۔میں تو اس ترکیب سے ان کا بھید لینے گیا تھا۔اس واقعہ سے ایمان کو بڑی ترقی ہوئی کہ حضور اس مولوی کے اندرون سے واقف تھے۔جب ہی تو اسکو استقلال کی نصیحت فرماتے تھے۔غالبا ۱۹۰۶ ء یا ۱۹۰۷ میں جبکہ خادم جلسہ سالانہ کے موقعہ پر قادیان گیا ہوا تھا۔حضور۔سیر کو تشریف لے گئے۔اس جلسہ پر کوئی چار ہزار اشخاص حاضر ہوئے تھے۔تقریباً اسی قدر اشخاص بھی ساتھ تھے۔کچھ ہوا چلی اور کچھ اس قدر آدمیوں کے پاؤں کی گر داڑی۔کہ آندھی کی صورت پیدا ہوگئی۔تو حضور نے سیر کی تجویز ملتوی کر کے درخت کے نیچے جماعت کو مصافحہ کرنے کا موقع دیا۔مولوی محمد علی صاحب اور مفتی محمد صادق صاحب اور مولوی صدرالدین صاحب دو تین اور اشخاص جن سے میں واقف نہ تھا حلقہ سا بنا کر کھڑے ہو گئے۔اور