تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 339
تاریخ احمدیت۔جلد 24 339 سال 1967ء سال سے محلہ دار انصر میں اپنی بی محترمہ باجر و نیم صاحبہ کے ہاں تنظیم تھیں۔باوجود کمزوری کے تانگہ پر جمعہ کے لئے تشریف لے جاتیں تھیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے آپ کا جنازہ پڑھایا اور بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ صحابہ میں آپ کی تدفین ہوئی۔اولاد 89 ا۔مولوی احمد دین صاحب معلم وقف جدید ۲- محمد صدیق صاحب ۳۔غلام بی بی صاحبہ زوجہ عبدالواحد صاحب دھار یوال ۴۔ہاجرہ بیگم صاحبہ زوجہ اللہ رکھا صاحب ماہی ( مکرم نصر اللہ خاں ملہی صاحب مرحوم مربی سلسلہ آپ کے پوتے تھے۔90 حضرت ملک محمد فقیر اللہ خاں صاحب 91 ولادت : ۱۸۹۰ء بیعت: ۱۹۰۵ء وفات: ۲۸ /اکتوبر ۵۱۶۱۹۶۷ آپ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔دھرم کوٹ رندھاو اضلع گورداسپور کے رہنے والے تھے۔آپ کے والد کا نام ملک شہاب الدین صاحب تھا۔آپ کے جد امجد جن کا تعلق گلے زئی قبیلہ سے تھا، افغانستان سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے تھے۔آپ چھ بہن بھائی تھے۔لیکن احمدیت قبول کرنے کا شرف صرف آپ ہی کو حاصل ہوا۔آپ کے ایک چا ملک نظام الدین صاحب تھے۔ان کی اولاد میں سے حضرت ڈاکٹر ظفر حسن صاحب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے جو کہ ملک منور احمد جاوید صاحب نائب ناظر ضیافت ربوہ کے دادا تھے۔حضرت ملک محد فقیر اللہ صاحب کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی کا علم ۱۹۰۵ء میں اس وقت ہوا جب آپ علی گڑھ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔اس سلسلہ میں آپ نے استخارہ کیا تو آپ نے خواب میں ایک بزرگ کو دیکھا جن کے بارے میں ایک شخص نے جو خواب میں آپ کی راہنمائی کر رہا تھا، بتایا کہ یہ بزرگ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں، ان کو سلام کرو۔اس رویا نے آپ کے دل میں بیقراری پیدا کر دی۔چنانچہ آپ قادیان گئے۔خواب میں جس بزرگ کو آپ نے دیکھا تھا وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھے۔آپ نے حضور علیہ السلام کو دیکھتے ہی فوراً بیعت کرلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے بطور ڈسٹرکٹ انسپکٹر آف اسکولز سرکاری ملازمت شروع کی۔۱۹۴۴ء میں بطور ڈپٹی انسپکٹر آف سکولز آپ کی ریٹائرمنٹ ہوئی۔دوران ملازمت آپ نے قادیان محلہ