تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 329
تاریخ احمدیت۔جلد 24 329 سال 1967ء بابرکت شادی ظہور میں آئی تھی۔شادی کے بعد لاہور تشریف لائیں۔والد صاحب کی پہلی بیوی فوت ہو چکی تھیں اور اس کے سات بچے زندہ موجود تھے۔لیکن ہماری والدہ کی یاد بھلا دی بفضلہ تعالیٰ۔ان بچوں نے ( بھی ) بچپن سے لے کر اب تک محبت کا بہترین سلوک کیا جو ہمارے خاندان میں ایک مثال رکھتا ہے۔والدہ مرحومہ نہایت دیندار، نیک، حق گو، اور نمازوں کی پابند اور اکثر نمازوں کی تلاوت کیا کرتی تھیں۔اپنی تمام اولاد کے لئے خدا تعالیٰ کے حضور کثرت سے دعائیں کیا کرتی تھیں۔اولاد آپ کو خدا تعالیٰ نے آٹھ لڑکے اور ایک لڑکی عطا فرمائی۔حضرت مولوی میر محمد جی صاحب ہزاروی ولادت: ۱۸۸۹ء 76 بیعت اکتوبر ۱۹۰۱ ء | 7 وفات ۱۳ جون ۱۹۶۷ء حضرت مولوی صاحب کا اصل وطن موضع کو کمنگ ضلع ایبٹ آباد تھا۔آپ کے والد کا نام میر محمد زمان خان صاحب تھا۔آپ اپنی خود نوشت روایات میں لکھتے ہیں کہ خاکسارا اپنے متعلقین کے پاس موضع دانہ میں رہتا تھا۔ان دنوں ایک حاجی برکت اللہ صاحب جوا کثر عربستان یا کاشغر میں رہتا۔پنجاب سے حضرت اقدس کا تصنیف کردہ رسالہ ہمراہ لایا۔اور موضع دانہ کے امام صاحب کو طلوع آفتاب کے وقت محراب میں لا کر دیا اور کہا پنجاب میں سنا ہے کہ پہلے یہ شخص خدائی کا دعوی کرتا تھا اور اب نبوت کا دعویٰ کر رہا ہے۔مولوی صاحب کے ہاتھ سے ایک یاغستانی طالبعلم نے رسالہ لے کر پڑھا اور گالیاں دینی شروع کیں۔خاکسار کی عمر اس وقت چھوٹی تھی۔کھیل میں مشغول تھا۔مولوی صاحب کو کہتے سنا کہ گالیاں نہ دو یہ شخص خدا رسیدہ ہے۔لیکن طالبعلم باز نہ آیا۔کچھ دنوں کے بعد قصبہ مانسہرہ میں ایک شخص عیسائی ہوا اور وہاں کا جو خاص مولوی تھا وہ پادری سے مغلوب ہوا۔یاغستانی مذکورہ کے دل کو بہت صدمہ ہوا۔اُس نے پڑھائی چھوڑ دی۔حضرت اقدس کی کتاب ازالہ اوہام منگوا کر مطالعہ میں لگ گیا۔عصر کے بعد اس نے کتاب ختم کی۔امام مسجد گھر کو جارہے تھے کہ طالبعلم مذکور نے کہا مولوی صاحب حضرت مرزا صاحب اپنے دعوئی میں بچے ہیں۔مولوی صاحب نے فرمایا۔پہلے تم گالیاں دینے سے باز نہیں آتے تھے اب نوبت با نینجا رسید۔تم یاغستان کے ہو تمہیں زندگی سے ہاتھ