تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 327 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 327

تاریخ احمدیت۔جلد 24 327 سال 1967ء سکا تو قادیان کے لنگر خانہ میں پانصد روپیہ بطور جرمانہ کے دے دوں گا۔اس صورت میں میں آپ کے ساتھ مراقبہ میں بیٹھ جاتا ہوں۔کیونکہ مرزا صاحب تو بہت دور ہیں میں ان کا ادنی غلام آپ کے ساتھ مراقبہ کرنے کو تیار ہوں۔اس پر وہ پیر صاحب بہت خفا ہوئے اور کہنے لگے کہ دیکھو یہ بہت بے ادب ہے میرے والد صاحب بھی اس پر بہت خفا ہوئے۔اور کہنے لگے کہ تم نے میرے پیر صاحب کی بہت بے ادبی کی ہے۔چنانچہ اس غصہ میں انہوں نے تیشہ اُٹھایا اور سیدھا میرے سر کی طرف چلا دیا۔وہاں پر اتفاق سے ایک سکھ بھی آ گیا تھا اس نے اس تیشہ کو اپنے ہاتھوں میں دبوچا۔اور مجھ کو پکڑ کر باہر لے گیا۔میرے دل میں نہایت درد اور رونا آتا تھا کہ یا الہی یہ کیا معاملہ ہے میں اپنی زندگی سے مایوس ہو چکا تھا۔اگلی صبح کو قادیان میں حضور والا کی خدمت میں حاضر ہوا۔میں روتا تھا اور حضور کو تمام واقعہ زبانی سناتا تھا۔حضور نے مجھ کو کچھ دودھ اور کچھ دوائی کھلائی اور بہت ساری تسلی دی اور فر مایا کہ خدا کے راستہ میں جان دینا کوئی چیز نہیں بلکہ یہی اصلی زندگی ہے اور بہت خوش ہوئے۔اور فرمایا کہ میں آپ سے بہت خوش ہوں۔پیر صاحب کو یہی جواب دینا چاہیے تھا۔جو آپ نے دیا اور فرمایا کہ تم سب کچھ چھوڑ کر اپنے والد صاحب سے جدا ہو جاؤ کسی دوسری جگہ رہائش کا انتظام کرلو۔پس یہ حضور والا کی آخری زیارت تھی اس کے بعد پھر مجھ کو حضور سے ملنا نصیب نہیں ہوا۔داخل احمدیت ہونے کے بعد آپ کے والد بلکہ تمام رشتہ داروں نے شدید مخالفت کی۔بلکہ آپ کے دادا صاحب نے مشتعل ہو کر آپکو اپنے گھر سے نکال دیا اور آپ کی پہلی بیوی کے تمام زیورات اُتار لئے۔آپ اسی بے بسی کے عالم میں ۱۹۲۰ء کے قریب اپنے آبائی وطن پٹیالہ کو چھوڑ کر مستقل طور پر قادیان دار الامان میں سکونت پذیر ہو گئے۔ازاں بعد کچھ عرصہ لا ہور اور پھر خوشاب میں رہنے کے بعد مستقل طور پر ربوہ میں بود و باش اختیار کر لی۔آپ بناوٹ تصنع اور ریا سے کوسوں دور تھے۔فقیروں اور غریبوں سے بہت محبت تھی۔لین دین اور معاملات میں بہت صاف تھے۔بہت کم قرضہ لیا کرتے تھے۔اور اگر لیتے تو بہت فکر کے ساتھ اولین فرصت میں اتارتے۔آخری عمر تک محنت و مشقت کے عادی رہے۔کئی میل تک پیدل سفر کر لیتے تھے۔پوری عمر نماز تہجد کا با قاعدگی سے التزام رکھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق تھا۔آنحضور ﷺ کی شان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشعار پڑھتے وقت آبدیدہ ہو جاتے 74۔