تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 324
تاریخ احمدیت۔جلد 24 324 سال 1967ء طرح ماہوار تنخواہ کے لالچ کے اسکو سمجھایا تھا۔اسطرح سے وہ آریہ بنا اور مسلمان بنا۔پھر ایک روز میں اور ڈاکٹر حشمت اللہ ڈھاب پر کشتی چلانے کا نظارہ دیکھنے گئے تھے۔جبکہ حضرت صاحب یعنی میاں محمود احمد صاحب کشتی چلا رہے تھے۔جب ہم گئے تو ان کو دیکھتے ہی ہماری آنکھوں میں کچھ ایسی محبت اور دل میں سرور تھا کہ اس کا مزہ اب تک نہیں بھولتا۔میں تو اب بھی جب بھی حضور کے سامنے ہوتا ہوں تو وہی بچپن کا نظارہ سامنے آجاتا ہے۔اس کے بعد جب ہم آٹھ دس یوم ٹھہر کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے رخصت ہونے کے لئے اندر گئے تو حضور والا کے ہاں ایک معمولی چار پائی اور ایک معمولی لحاف کا بستر بچھا ہوا تھا۔حتی کہ اس چار پائی کو لوہے کی ایک پتری لگی ہوئی تھی۔دیکھ کر نہایت ہی اللہ تعالیٰ کا جوش میرے دل میں آیا کہ دوسروں کے لئے تو ایسے تکلف والے اور آرام دہ بستر اور اپنے لئے ایسا معمولی سامان۔ہمارے وفد میں سے ایک ایک مصافحہ کر کے حضور سے رخصت ہوتا جاتا تھا۔مگر جس وقت میں مصافحہ کر کے رخصت ہونے لگا تو حضور نے فرمایا کہ دیکھو خدا سے وفاداری کرنے میں کبھی غفلت نہ کرنا۔تو پھر تمہارا نہ کوئی دنیا کا کام انکے گا اور نہ دین کا کام اٹکے گا۔اس کے بعد تقریباً ۱۹۰۶ء کا واقعہ ہے کہ حضور دہلی میں تشریف فرما تھے۔وہاں سے واپسی پر جماعت پٹیالہ نے حضور کو پٹیالہ آنے کی دعوت دی۔مگر حضور نے قبول نہ فرمائی۔لدھیانہ میں حضور والا نے تقریر فرمائی۔جماعت کے اور دوست لدھیانہ پہنچے مگر میں اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کے والد بزرگ میاں رحیم بخش صاحب جو ہمیشہ مجھ سے دلی محبت کیا کرتے تھے۔بلکہ میں نے بیعت ہی ان کے واسطہ سے کی ہے، وہ مجھ کو ساتھ لیکر لدھیانہ میں پہنچے۔اتفاق سے رمضان شریف کا مہینہ تھا۔جس وقت میں اور بھائی رحیم بخش صاحب لدھیانہ میں شام کو پانچ بجے کے قریب پہنچے۔حضور سے ملاقات ہوئی تو ہم نے روزے رکھے ہوئے تھے ، حضور نے فرمایا کہ سفر میں روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔بھائی صاحب کہنے لگے ہم نے تو روزہ رکھا ہوا ہے۔حضور نے فرمایا کہ روزہ کھول دو۔میں نے عرض کیا کہ حضوراب تو تھوڑا سا وقت رہ گیا ہے۔حضور فرمانے لگے کہ کیا خدا کو زبردستی راضی کرنا چاہتے ہو۔پس فوراً بھائی صاحب نے اور میں نے روزہ کھول دیا۔اس کے دوسرے روز حضرت صاحب نے لدھیانہ میں تقریر فرمائی۔وہ لطف اور مزا اب تک میرے دل سے نہیں بھولتا۔جبکہ حضور اپنی سوٹی کو جلدی جلدی نیچے مارتے تھے اور فرماتے تھے کہ خدا نے مجھے پر یہ احسان کیا۔میں اکیلا تھا، خدا نے مجھے ایک جماعت عطا کی۔پھر حضور نے دوران تقریر میں چائے نوش فرمائی۔بس پھر کیا تھا۔شور برپا ہو گیا کہ رمضان شریف