تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 317 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 317

تاریخ احمدیت۔جلد 24 317 سال 1967ء بھائی علی سے مخاطب ہوئے اور کہا بھائی آپ بڑے عالم ہیں آپ اس آیت سے کیا سمجھتے ہیں۔تفاسیر میں جو انہوں نے پڑھا تھا وہ بیان کیا۔پھر ملک مرحوم مجھ سے مخاطب ہوئے کہ میں اس سے کیا سمجھتا ہوں۔میں نے مفصل جواب دیا جس پر وہ اتنے خوش ہوئے کہ بے اختیار کہنے لگے اگر اسلام کیلئے دوبارہ زندگی مقدر ہے تو وہ ان خیالات کے ذریعہ سے جن کا میں نے اظہار کیا ہے۔میں نے فوراً شکر یہ ادا کرتے ہوئے کہا آپ کی مملکت میں ہر مذہب کو تبلیغ کی آزادی ہے حتی کہ آریہ جیسے شدید دشمن اسلام کیلئے بھی اور اگر آزادی نہیں تو اس جماعت کیلئے نہیں جس کے خیالات کے متعلق بادشاہ نے یہ داد دی ہے۔میز سے اٹھتے ہوئے فرمایا آپ کو ان سے بڑھ کر آزادی ہوگی اور جب ہم ڈرائینگ روم میں داخل ہو رہے تھے تو میرے دوست رستم حیدر مرحوم نے اپنا منہ میرے کان کے قریب کیا اور کہاؤ اَنتَ تَدْرِي مِنْ اَيْنَ تُؤكَلُ الكَتِف۔اور اس کے بعد جب رستم حیدر مجھے اپنے مکان پر لائے تو اپنے سیکرٹری سے ایک درخواست عربی میں ٹائپ کرائی جس پر میں نے دستخط کئے۔اور وہ درخواست بادشاہ کے سامنے پیش ہوئی جس پر انہوں نے مجلس کو غور کرنے کا حکم دیا اور اس طرح یه درخواست تین ماہ تک دفتروں میں چکر لگاتی رہی اور کئی مایوسیوں کے بعد ایک شام مغرب کی نماز سے ہم دوست فارغ ہوئے تھے کہ سرکاری اردلی نے آ کر جعفر صادق مرحوم امیر جماعت احمد یہ بغداد کو ایک لفافہ دیا۔وہ کھولا گیا۔اس میں بادشاہ کی مہر کے ساتھ وزارت داخلہ کی طرف سے یہ اطلاع تھی کہ بادشاہ کی طرف سے ان کا سابقہ حکم منسوخ کر دیا گیا ہے اور جماعت احمدیہ کو مکمل تبلیغی آزادی دی جاتی ہے۔یہ الفاظ پڑھ کر جو دوست نماز مغرب میں حاضر تھے بے اختیار سر بسجو د ہو گئے۔۳ ستمبر ۱۹۲۶ء کو حضرت مصلح موعود نے آپ کو بخاری کے ترجمہ اور اسکی شرح کا عظیم الشان کام 62 766 سپر دفرمایا۔چنانچہ حضرت شاہ صاحب تحریر فرماتے ہیں:۔آپ نے فرمایا۔بہت سے ضروری کام ہیں۔جو کرنے کے ہیں۔مگر اُن کی طرف توجہ نہیں۔مثلاً صحیح بخاری کے ترجمہ اور اسکی شرح کا کام بھی نہایت ضروری اور اہم ہے۔اگر ہم نے نہ کیا تو ان لوگوں سے کیا توقع ہو سکتی ہے۔جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت میں رہنے کا موقع نہیں ملا۔اور جو آپ کے فیضان سے براہ راست مستفیض نہیں ہوئے۔غیروں کے تراجم اور حواشی رہ جائیں گے۔اور پھر جواناپ شناپ لکھا ہوا ہو گا۔اسی پر دار و مدار ہوگا۔اور پھر بعد از وقت اعتراضوں کو دیکھ کر ادھر اُدھر کے جوابوں کی سُوجھے گی۔