تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 316
تاریخ احمدیت۔جلد 24 316 سال 1967ء کے متعلق تازہ لٹریچر چار ہزار کی تعداد میں موجود ہے حالانکہ نظارت سے انہیں اشاعت کے لئے صرف ساڑھے تین سو روپیہ دیا گیا تھا۔اسکے علاوہ سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے تبلیغی مرکز کو مضبوط کرنے اور مستقل مبلغ کے تعلقات کو اہل دمشق کے ساتھ مستحکم کرنے کے لئے ان کی شادی کا انتظام ایک عمدہ ذی اثر خاندان کے ساتھ کر دیا۔( نام زوجہ سیدہ سیارہ حکمت دمشق) جس کے لئے بھی انہیں بہت مشکلات کا سامنا ނ کرنا پڑتا ہم علماء کے فتاوی ومخالفت کے برخلاف انکا نکاح کرا دیا۔اور جب شاہ صاحب دمشق۔روانہ ہوئے ہیں تو کئی آدمی انکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر حضرت خلیفۃ المسیح کی بیعت کر چکے تھے۔اور ا سکے علاوہ تعلیم یافتہ طبقہ میں احمدیت کے متعلق سنجیدگی کے ساتھ تحقیق کرنے کی جستجو پورے طور پر پیدا ہو چکی ہوئی تھی۔سفر عراق 61 آپ شام سے واپس آتے ہوئے عراق بھی تشریف لے گئے جہاں پر نہایت تاریخی خدمت سرانجام دینے کا موقع ملا جس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت شاہ صاحب کا بیان ہے کہ:۔ہم طرابلس شام جمص اور تذمر وغیرہ مقامات میں قیام کرتے ہوئے بغدا ددس روز میں پہنچے۔بغداد میں میرے قدیم اور نہایت محب دوست مرحوم رستم حیدر تھے صلاح الدین ایوبیہ کالج میں ناظم الدروس تھے اور تاریخ عام کے پروفیسر۔یہ سور بون یو نیورسٹی (فرانس) کے تعلیم یافتہ اور بہت قابل تھے۔زبان عربی کے بھی ادیب تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں میری بہت ہی محبت اور عزت ڈال دی۔انہیں میری بغداد میں آمد پر بڑی خوشی ہوئی۔کئی دعوتیں انہوں نے کیں جن میں شہر کے معزز دوست مدعو کئے جاتے رہے۔وہ وہاں وزیر دیوان تھے۔وزراء و حکام اور علماء سے تعارف ہوا۔یہاں تک کہ ملک فیصل نے بھی مجھے دعوت دی اور اس دعوت میں بھی چیدہ لوگ مدعو تھے۔دورانِ طعام رستم حیدر نے احمدیت کا ذکر تعریفی رنگ میں کیا اور احمدیت سے متعلق ملک فیصل مرحوم نے سوالات کئے۔جنگ عظیم کے دوران میں بھی ان کا تعارف مجھ سے ہو چکا تھا۔جب دجال سے متعلق تفصیلی گفتگو ہوئی تو انہوں نے مجھ سے آیت لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ (الانعام :۱۰۴) کا مفہوم دریافت کیا۔میرے جواب دینے سے پہلے وہ اپنے