تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 314
تاریخ احمدیت۔جلد 24 314 60 سال 1967ء پرنسپل منتخب کیا گیا۔اور یہاں علم النفس ( سائیکالوجی) اور علم الاخلاق (ETHICS) کے مضامین دئے گئے۔اکتوبر ۱۹۱۸ ء کے آخر میں جنرل ایلز کے حکم سے ملٹری نے مجھے حراست میں لیا۔اور بطور اسیر جنگی اور اسیر سیاسی قاہرہ لے گئے۔اور جنگ ختم ہونے کے بعد مئی ۱۹۱۹ء کے اواخر میں لاہور لایا گیا۔بظاہر میں حکومت برطانیہ کا شاہی قیدی تھا۔لیکن حقیقت میں آسمانی بادشاہت کا ایک اسیر تھا۔جس سے سلسلہ کے لئے کئی ایک خدمات لینا منشائے الہی تھا۔یہاں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مجھے آزاد کروایا۔اُن دنوں پنجاب کے گورنر سرایڈ وائر تھے۔حضرت مولوی شیر علی صاحب، چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور عرفانی صاحب وغیرہ اُن کے پاس لاہور بھیجے گئے۔اس تحریری ہدایت کے ساتھ کہ اگر پچاس ہزار روپیہ کی ضمانت بھی دینی پڑے دی جائے۔دوسرا سفر شام حضرت شاہ صاحب جولائی ۱۹۲۵ء کے شروع میں مولانا جلال الدین صاحب شمس کے ساتھ شام بھجوائے گئے۔آپ کا یہ سفر بھی تاریخ احمدیت میں ہمیشہ یادگار رہے گا۔حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم اے ناظر دعوت و تبلیغ قادیان نے مبلغین دمشق وشام کے زیر عنوان لکھا:۔( جناب شاہ صاحب کو ) حضرت خلیفہ امسیح نے مولوی جلال الدین صاحب کے ساتھ گذشتہ ماہ جولائی ۱۹۲۵ء کے شروع میں دمشق بطور پائنیر (اوار) تبلیغ کی حیثیت سے بھیجا تھا کہ تا تبلیغ کے راستے میں وہاں جو دقتیں ہیں اُنہیں دُور کر کے ایک مستقل تبلیغی مرکز قائم کر دیں۔اور وہ مشکلات ایسی نہیں تھیں جو کسی معمولی ہمت و جد و جہد سے حل ہو نیوالی تھیں اور مابعد کے واقعات نے تصدیق کی ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح کا انتخاب عین مشیت الہبی کے ماتحت تھا۔اور ایک تھوڑے سے عرصہ میں ملک شام وعدن میں جو کام ہوا ہے وہ جیسا کہ حضرت خلیفہ المسیح نے اپنی ایک تقریر میں فرمایا۔ایک عظیم الشان تاریخی اہمیت رکھتا ہے اور انکی دانشمندی ، دوراندیشی و کمال جرات پر دلالت کرتا ہے۔دمشق میں سب سے پہلے گورنمنٹ سے تبلیغ کے لئے اجازت حاصل کرنے کا سوال تھا۔اس میں سب سے بڑی رکاوٹ وہاں کے مفتی و مشائخ کا وجود تھا اور وہ پلک رائے تھی جسکو ان مشائخ نے اپنے غلط بیانوں سے حضرت خلیفہ المسیح کے دمشق سے چلے آنے کے بعد خطر ناک طور سے زہریلہ کر دیا ہوا تھا۔ڈر تھا کہ یہ لوگ پہلے کی طرح شور و شر بر پا کر کے تبلیغ کو روک نہ دیں اسلئے سب سے