تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 309
تاریخ احمدیت۔جلد 24 309 سال 1967ء سے رونے اور بین کی آواز آئی۔میں اپنے کمرہ سے نکل کر صحن میں آیا ہی تھا کہ حضور علیہ السلام بھی ہمارے کمروں کے صحن میں تشریف لائے اور کسی سے دریافت فرمایا کہ کیا ہوا۔حضور کو بتلایا گیا کہ مرزا علی شیر بیگ مرگیا ہے اور وہ ہیضہ سے مرا ہے۔یہ علی شیر بیگ ایک سفید ریش بوڑھا شخص تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا رشتہ دار تھا۔( یہ حضور علیہ السلام کا ماموں زاد بھائی اور برادر نسبتی تھانیز مرز افضل احمد صاحب کا خسر تھا۔مرتب) لاہور میں جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا انتقال ہوا۔تو اس وقت میں بھی لاہور تھا اور گورنمنٹ کالج کی فرسٹ ائیر کلاس میں پڑھتا تھا۔۲۶ مئی ۱۹۰۸ء اور منگل کا دن ہمیں کبھی نہیں بھول سکتا۔۲۵ مئی کی شام کو سورج غروب ہونے سے کچھ دیر پہلے احمد یہ بلڈنگ میں خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان کے سامنے میں کھڑا تھا۔میرے ساتھ میاں محمد شریف صاحب رٹیائر ڈالی۔اے۔سی کے علاوہ اور بھی کئی دوست کھڑے تھے۔کہ اتنے میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام فٹن میں بیٹھے ہوئے سیر سے لوٹے۔فٹن کے دروازہ پر بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی بطور محافظ کھڑے تھے۔جب حضور کی بگھی خواجہ صاحب کے مکان کے سامنے کھڑی ہوئی۔تو اس وقت حضور کی زیارت کرنے والے لوگوں کا ایک انبوہ تھا جس میں غیر احمدی بھی بکثرت تھے۔حضور فٹن سے اتر کر مکان پر جانے کے لئے سیڑھی پر چڑھے (ایک چھوٹی سی چوبی سیڑھی اوپر کمرے میں جانے کے لئے رکھی ہوئی تھی ) تو اس موقعہ پر کسی شخص نے گالی دی۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی ہمیں دیکھ کر ہمارے پاس تشریف لے آئے۔ادھر ادھر کی باتیں ہونے کے بعد غالباً میاں محمد شریف صاحب نے تجویز کی کہ کل صبح دریائے راوی پر چلیں۔جب جانے کے متعلق فیصلہ ہو گیا۔تو حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے مجھے بتا کید فرمایا کہ کل صبح ہوسٹل میں تیار رہنا۔ہم اسی طرف سے آئیں گے اور تمہیں بھی ساتھ لے جائیں گے۔چنانچہ منگل کی صبح کو میں تیار ہو کر ان کی آمد کا انتظار کرنے لگا۔مگر انتظار کرتے کرتے دن کے و بج گئے۔خواجہ عبدالرحمن صاحب امرتسری جو میرے کلاس فیلو تھے انہوں نے کہا کہ آنے میں دیر ہوگئی ہے آؤ پہلے کھانا کھالیں۔میں کھانا کھانے کے لئے ان کے ساتھ گیا لیکن بوجہ ایک نامعلوم غم کے جو میرے دل پر طاری تھا۔میں کھانا نہ کھا سکا۔میں نے عبدالرحمن صاحب سے کہا کہ مجھے کوئی حادثہ معلوم ہوتا ہے۔خدا نخواستہ حضرت میاں صاحب پر کسی نے حملہ نہ کر دیا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کی طرف خیال تک نہ گیا۔حالانکہ اس سے دو تین دن پہلے حضور علیہ السلام بیمار تھے۔میں عصر کی نماز پڑھنے کے لئے