تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 308 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 308

تاریخ احمدیت۔جلد 24 308 سال 1967ء ’ایک دفعہ جب کہ حضور انور دارالا نوار کے کھیتوں کی طرف سیر کیلئے جارہے تھے تو اسوقت میں بھی ساتھ ہو گیا۔اب جہاں مولوی عبد المغنی خان صاحب وغیرہ کے مکانات ہیں اُن دنوں یہاں بڑ کا درخت ہوتا تھا۔اور ڈھاب ہوا کرتی تھی۔یہاں سے گذر کر حضور علیہ السلام موڑ کے قریب پہنچے۔جہاں اب نیک محمد خان صاحب کا مکان واقعہ ہے۔تو اس موقع پر حکیم عبدالعزیز صاحب پسروری نے حضور علیہ السلام سے پوچھا کہ حضور آدم کے متعلق قرآن میں آتا ہے عَضَى أَدَمُ رَبَّهُ فَغَوى۔ایک نبی کی شان میں ایسے الفاظ آتے ہیں۔حضور نے اسوقت تقریر فرمائی۔اس میں سے یہ حصہ مجھے اب تک یاد ہے۔حضور علیہ السلام نے عربی کے اشتقاق کے متعلق ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ عصفور ( چڑیا ) کا لفظ بھی دو لفظوں سے مرکب ہے عصی اور فر۔عصی کے معنی قابو سے نکل گیا۔فر کے معنی بھاگ گیا۔چڑیا کو عصفور اسلئے کہتے ہیں کہ ذرا موقع پانے پر فورا ہا تھ سے نکل جاتی ہے۔اس موقع پر آدمیوں کے ریلے نے مجھے پیچھے دھکیل دیا۔چونکہ حضرت اقدس تیز چلتے تھے۔اس لئے میں اس کشمکش میں پیچھے رہ گیا۔اور باقی باتیں نہ سُن سکا۔حضرت والد صاحب مرحوم ڈاکٹر تھے۔ہر تین سال کے بعد تین ماہ کی رخصت لیکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت سے استفادہ کی غرض سے قادیان آجایا کرتے تھے۔اور حضور علیہ السلام انہیں اپنے مکان میں ٹھہراتے تھے۔اور اس طرح ہمیں بھی حضور کے مکان میں رہنے کا موقع ملتا۔مجھے یاد ہے کہ انہیں ایام میں جبکہ ہمیں حضور علیہ السلام کے گھر میں رہنے کا موقع ملا۔ایک دفعہ جبکہ گرمی کے دن تھے ہمیں اطلاع پہنچی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بحالت غشی ہیں اور نبضیں کمزور ہوگئی ہیں۔اور حضرت خلیفہ اول اور دیگر ڈاکٹر حضور علیہ السلام کے پاس ہیں۔میں یہ سنکر اپنے اس حصہ مکان سے جہاں ہم رہتے تھے گھر کے اُس حصہ میں آیا جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام غشی کی حالت میں تھے۔اندر جا کر دیکھتا ہوں۔کہ حضور نے لحاف اوڑھا ہوا ہے اور حضرت خلیفہ اول حضور علیہ السلام کے سرہانے کھڑے ہیں۔دو تین اور شخص بھی وہاں تھے۔مگر مجھے یاد نہیں رہا کہ وہ کون تھے۔حضور کے پاؤں دبائے جارہے تھے۔تھوڑی دیر کے بعد حضور علیہ السلام ہوش میں آئے اور فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے ( اس الہام کے اصل الفاظ مجھے یاد نہیں) لیکن اس کا مفہوم یہ تھا کہ ہیضہ پھوٹے گا۔اس الہام پر ہفتہ عشرہ ہی گذرا ہوگا کہ قادیان میں ہیضہ پھوٹا اور اسکے پھوٹنے کی پہلی خبر جو مجھے پہنچی وہ مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کے مکان کا واقعہ ہے دن کے دس بجے کے قریب انکے مکان