تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 307 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 307

تاریخ احمدیت۔جلد 24 307 سال 1967ء حضور نے تلقین فرمائی کہ عبدالکریم کی خدمت میں اس خوف سے کسی قسم کی کمی نہ کی جائے کہ اسے باولے کتے نے کاٹا ہے۔چنانچہ حضور کا یہ ارشاد سن کر طلبا میں سے سب پہلے میں نے اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش کیا۔خواجہ عبد الرحمن صاحب کشمیری ( فارسٹ رینجر بارہ مولا ) نے بھی میرے ساتھ ہی اپنے آپ کو پیش کیا۔خواجہ صاحب میرے ہم جماعت تھے۔چنانچہ ہمیں دوسرے دن صبح سے شام تک عبدالکریم کی نگرانی اور خدمت کے لئے رکھا گیا۔عبدالکریم کو سید محمد علی شاہ صاحب کے چوبارہ میں ٹھہرایا گیا تھا۔مجھے یاد ہے کہ جو نہی اسکی طرف سے کوئی ایسی حرکت صادر ہوتی یا آواز آتی میں اور خواجہ صاحب دونوں گھبرا اٹھتے اور پیشتر اس کے کہ اسکی طرف سے کوئی حملہ صادر ہوتا۔ہماری نظریں سیڑھی کے دروازے کی طرف ہوتیں۔کہ وقت پر اس کے کاٹنے سے محفوظ ہوجائیں۔شام کے قریب عبدالکریم نے مجھے دیکھا۔چونکہ اس کے دل میں میرے لئے عزت تھی۔مجھے دیکھ کر پہچانا اور نہایت ہی نرم آواز سے کہا کہ شاہ صاحب آپ میرے قریب آجائیں۔ڈریں نہیں۔مجھے آگے سے اب آرام ہے۔کسولی عبدالکریم کے علاج کے لئے تار بھی دیا گیا تھا۔مجھے یاد ہے کہ وہاں سے جواب آیا تھا SORRY, NOTHING CAN BE DONE FOR ABDUL KARIM۔میرے بھائی میجر ڈاکٹر حبیب اللہ شاہ صاحب، جب میڈیکل کالج میں پڑھا کرتے تھے تو اس بیماری کا لیکچر دیتے ہوئے پروفیسر نے جب کہا کہ اس بیماری کا جب دورہ شروع ہو جائے تو وہ لاعلاج ہوتی ہے۔تو انہوں نے اٹھکر کہا کیا یہ صحیح ہے کہ یہ مرض لاعلاج ہے؟ پر و فیسر نے پورے وثوق سے کہا کہ ہاں یہ مرض اس صورت میں لاعلاج ہو جاتا ہے۔اسپر حبیب اللہ شاہ صاحب نے اپنا چشمدید واقعہ بیان کیا۔کیونکہ وہ بھی ان دنوں ہائی سکول میں پڑھتے تھے۔جب انہوں نے سارا واقعہ بیان کیا۔تو پروفیسر نے کہا پھر تو یہ ایک معجزہ ہے۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے چند سال بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقدس عہد کے ایمان افروز حالات پہلے سے زیادہ شرح وبسط سے سپر د قلم فرمائے جو اس مبارک دور کی عکسی تصویر ہے۔یہ حالات ذکر حبیب کے عنوان سے اخبار الفضل قادیان ۳۰ مارچ تا ۲ مئی ۱۹۴۳ء میں بالاقساط اشاعت پذیر ہوئے جن کا ایک حصہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں:۔59