تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 306
تاریخ احمدیت۔جلد 24 306 سال 1967ء کیا۔حضور علیہ السلام نے اُس وقت مجھے فرمایا تھا کہ میٹھے تیل میں کافور ملا کر مالش کیا کروں۔چنانچہ الہ دین فلاسفر ایک عرصہ تک معمولی سی اُجرت لیکر مجھے مالش کرتا رہا۔اس کے سوا اور کسی علاج کی ضرورت نہ پڑی۔اور میری ٹانگ میں جو خفیف سا نقص رہا اُس نے کوہ ہمالیہ کی برفانی چوٹیوں تک جانے میں کسی قسم کی روک پیدا نہیں کی۔میں گھوڑے کی سواری جانتا ہوں۔اور جنگِ عظیم میں سوار فوج میں بعہدہ کپتان شریک ہوا اور دو معرکوں میں حصہ بھی لیا۔غالبًا ۱۹۰۵ء کا واقعہ ہے کہ طاعون پنجاب میں سخت زوروں پر تھی۔راولپنڈی کا ضلع خاص طور پر لقمہ اجل بنا ہوا تھا۔حضرت والد صاحب نے حضور سے اپنے وطن جانے کی درخواست کی۔مگر حضور نے اس بنا پر جانے سے روک دیا۔کہ حدیث میں منع ہے کوئی شخص ایسی جگہ میں جائے جہاں وبا پھیلی 57 ہوئی ہے۔۴ را پریل ۱۹۰۵ء میں جب کانگڑہ کا زلزلہ آیا تو حضور بڑے باغ میں مع اپنے اہل وعیال کے تشریف لے گئے اور ہم طلباء مدرسہ بھی باغ میں چلے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام باغ والے مکان میں تشریف رکھتے تھے۔جس کا ہم طلباء مدرسہ باری باری پہرہ بھی دیا کرتے تھے۔اس مکان کے جانب مشرق ایک توت کا درخت تھا۔اس کے قریب ایک دفعہ خواجہ عبدالرحمن صاحب اور میں پہرہ پر متعین تھے۔رات اندھیری تھی۔اتنے میں ہم نے کسی کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا۔قریب پہنچنے پر معلوم ہوا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی بذات خود ہیں۔حضور نے شفقت سے ہمارے سروں پر ہاتھ پھیرا اور حضور بہت خوش ہوئے اور ہماری خوشی کی بھی کوئی انتہا نہ تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان طلباء کا ، جو باہر سے دارالامان میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتے تھے، بہت خیال رکھا کرتے تھے۔عبدالکریم کو جب ہلکائے کتے نے کاٹا، اس وقت حضور کو اس کے متعلق بہت تشویش تھی۔ایک رات عشاء کے قریب ڈاکٹر عبداللہ صاحب اور غالباً مولوی شیر علی صاحب یا مفتی صاحب کو بلایا اور انہیں بادام روغن دیا۔اور فرمایا کہ یہ اسے استعمال کرایا جائے جہاں تک مجھے یاد ہے۔مسہل دینے کی بھی ہدایت فرمائی۔جس وقت یہ ہدایات دی گئیں۔میں موجود نہ تھا۔لیکن مندرجہ بالا دونوں اصحاب ہدایات لینے کے معابعد بورڈنگ میں آئے۔اور ہمارے سامنے حضور کی ان ہدایات کا ذکر کیا۔اور انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ حضور نے ایک حدیث بیان کی ہے کہ جو شخص بیمار کی خدمت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو اس بیماری سے محفوظ رکھتا ہے۔گویا یہ حدیث بیان کر کے