تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 291 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 291

تاریخ احمدیت۔جلد 24 291 سال 1967ء کو دیکھتا کہ آپ اپنی جماعت کو لیکر اس کی عیادت کے لئے آرہے ہیں اور اس کو الگ اور اس کے بیوی بچوں کو جو وہاں موجود ہوتے نہایت ہی پیارے الفاظ میں تسلی اور اطمینان دلاتے اور رو بخدا ر ہنے کی وصیت فرماتے رہتے۔خدا تعالیٰ کی تقدیر مبرم اور اجل مقدر تھی مہر حامد فوت ہو گیا آپ نے خود اس کا جنازہ پڑھا اور اس کے اخلاص اور وفادارانہ تعلق کا ذکر کرتے رہے۔اس کا خاندان احمدی تھا اس کے بڑے بیٹے میاں مہرالدین مرحوم کے ساتھ اسی محبت اور پیار سے پیش آتے جس طرح ایک باپ اپنے بیٹے سے۔قادیان میں آنے والے مہمان بعض اوقات حضرت مہر حامد صاحب کے گھر میں آکر ٹھہرتے۔حضرت ڈاکٹر گوہر دین صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب ابتدا میں قادیان آئے تو کافی عرصہ تک حضرت مہر حامد صاحب کے گھر قیام پذیر ر ہے اور دینی معلومات حاصل کرتے رہے۔آپ کے تین بیٹے تھے۔حضرت میاں مہر الدین صاحب، حضرت فیروز الدین صاحب اور حضرت مہر قطب الدین صاحب۔خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ کے تینوں بیٹوں کو صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔حضرت فیروز الدین صاحب نے جوانی میں ہی وفات پائی۔حضرت مہر الدین صاحب نے ۱۴ جولائی ۱۹۱۸ء کو وفات پائی۔وفات سے پہلے چند روز بعارضہ ٹائیفائیڈ بیمار ہے۔بوجہ موصی ہونے کے بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہوئے۔آپ نے وفات سے چند دن پہلے ہی وصیت کا سارا چند ادا کر دیا تھا۔آپ کے تین بیٹے تھے۔مہر جلال الدین صاحب، ۲۔مولانا محمد ابراہیم صاحب قادیانی درویش ۳۰۔مولوی محمد عبداللہ صاحب مولوی فاضل۔آپ کے منجھلے بیٹے مولوی محمد ابراہیم صاحب قادیانی درویش قادیان میں سے تھے۔آپ ۴ دسمبر ۱۹۰۶ء کو قادیان میں پیدا ہوئے۔مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا اور نومبر ۱۹۲۹ء میں مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان کے مدرس متعین ہوئے۔مدرسہ احمدیہ میں حضرت مصلح موعود کے چار فرزندان کو تعلیم دینے والے اساتذہ میں سے ایک آپ بھی تھے۔صدر انجمن احمدیہ قادیان کے ممبر ہونے کے علاوہ نظارت دعوت الی اللہ میں بطور نائب ناظر اور ناظر تالیف و تصنیف کی خدمت کی بھی توفیق پائی۔اب حضرت مہر قطب الدین صاحب کے حالات قلمبند کئے جاتے ہیں۔حضرت مہر قطب الدین صاحب نے سورج گرہن کے نشان کے بعد بیعت کی تھی۔آپ کی خود نوشت روایات میں لکھا ہے:۔