تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 290 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 290

تاریخ احمدیت۔جلد 24 290 سال 1967ء رکھیں اور گھبرا ئیں نہیں۔میں دعا کروں گا۔حضور نے پھر شرف مصافحہ بخشا اور واپس تشریف لے آئے۔اس کے بعد حضرت حامد صاحب اسی دن دو بجے کے قریب فوت ہو گئے۔حضرت اقدس کو اطلاع دی گئی تو حضور نے فرمایا کہ ان کا جنازہ تیار کر کے مدرسہ کے صحن میں لایا جائے اور ہمیں اطلاع دی جائے ان کا جنازہ ہم خود پڑھائیں گے۔چنانچہ جنازہ مدرسہ کے صحن میں لا کر حضور کو اطلاع دی گئی اور حضور نے تشریف لا کر خود جنازہ پڑھایا اور جنازہ پڑھنے کے بعد حضور نے فرمایا کہ یہ ہمارے پرانے اور مخلص اور جماعت کی مدد کرنے والے شخص تھے۔ان کو عید گاہ والے قبرستان میں دفن کیا گیا تھا۔32 حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب آپ کی اس شدید بیماری اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا از راہ شفقت آپ کی عیادت کے لئے جانے کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مہر حامد قادیان کے آرائیوں میں پہلا آدمی تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سلسلہ بیعت میں داخل ہوا اور اب تک اس کا خاندان خدا کے فضل سے مخلص احمدی ہے۔مہر حامد نہایت غریب مزاج تھا۔۔۔۔وہ بیمار ہوا اور وہی بیماری اس کی موت کا موجب ہوئی حضرت اقدس متعدد مرتبہ اپنی جماعت مقیم قادیان کو لے کر اس کی عیادت کو تشریف لے گئے۔آپ جب جاتے تو اس سے بہت محبت اور دلجوئی کی باتیں کرتے اور اس کی مرض اور اس کی تکلیف وغیرہ کے متعلق بہت دیر تک دریافت فرماتے اور تسلی دیتے۔مناسب موقع ادویات بھی بتاتے اور توجہ الی اللہ کی بھی ہدایت فرماتے تھے۔وہ اپنی حیثیت کے لحاظ سے ایک معمولی زمین دار تھا اور یہ کہنا بالکل درست ہے کہ آپ کے زمین داروں میں ہونے کی وجہ سے وہ گویا رعایا کا ایک فرد تھا۔مگر آپ نے کبھی تفاخر اور تفوق کو پسند نہ فرمایا۔اس کے پاس جب جاتے تھے تو اپنا ایک عزیز بھائی سمجھ کر جاتے تھے اور اس طرح پر سے اس سے باتیں کرتے اور اس کی مرض اور اس کے علاج کے متعلق اس قدر دلچسپی لیتے کہ دیکھنے والے صاف طور پر کہتے تھے کہ کوئی عزیزوں کی خبر گیری بھی اس طرح نہیں کرتا۔بعض ادویات جن کی ضرورت ہوتی اور کسی جگہ سے میسر نہ ہوتیں تو خود دے دیتے۔غرض آپ نے متعدد مرتبہ مہر حامد مرحوم کی عیادت فرمائی۔اگر چہ مہر صاحب فوت ہو گئے مگر ان کو جو تسلی اور اطمینان اور خوشی اس امر کی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کی عیادت کو آتے اور خبر گیری فرماتے ہیں وہ بیان سے باہر ہے۔بعض وقت میں دیکھتا تھا کہ سرور سے اس کی آنکھوں میں آنسو آجاتے وہ اپنے گھر کو، اپنی حیثیت کو دیکھتا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام