تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 287 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 287

تاریخ احمدیت۔جلد 24 287 سال 1967ء ڈاکٹر صاحب جیسے دعا گو، خلیق، ہر دلعزیز اور ایثار پیشہ ڈاکٹر کی زیر نگرانی یہ ہسپتال فسادات ۱۹۴۷ء تک برابر ترقی کرتا رہا اور اپنوں اور بیگانوں نے اس ہسپتال کی دل کھول کر تعریف کی۔حضرت ڈاکٹر صاحب کی عظیم الشان خدمات اور خصوصیات کا سلسلہ بہت طویل ہے مثلاً فروری حضرت مصلح موعود کے حرم میں حضرت سیدہ ام طاہر آئیں۔نہایت مختصر بارات تھی۔حضور نے اپنے ایاز یعنی حضرت ڈاکٹر صاحب کو ساتھ لیا۔اور تانگے پر سوار ہو کر دلہن کے گھر پہنچے۔۱۹۲۴ء کے مشہور عالم سفر یورپ کے دوران آپ کو حضرت مصلح موعود سے ہمرکابی کا شرف 21 حاصل ہوا۔(اس سفر کی تفصیل تاریخ احمدیت جلد پنجم میں گذر چکی ہے ) مارچ یا اپریل ۱۹۲۵ء میں آپ حضرت مصلح موعود کے خصوصی ارشاد پر بھا گلور تشریف لے گئے۔اور حضرت سیدہ سارہ بیگم صاحبہ کے متعلق طبی رپورٹ پیش کی جس پر حضرت مصلح موعود نے چند روز بعد حضرت سیدہ موصوفہ سے اپنے نکاح کا اعلان فرمایا۔دعوت ولیمہ کا انتظام آپ ہی کے سپر د ہوا۔حضرت مرزا سلطان احمد صاحب نے ۲۵ دسمبر ۱۹۳۰ء کو اپنے مکان میں سیدنا حضرت مصلح موعود کے دست مبارک پر بیعت کی اس موقعہ پر آپ بھی موجود تھے۔اس بیعت میں آپ کی خصوصی تحریک کا نمایاں حصہ تھا۔حضرت سیدہ ام طاہر کا انتقال ۵ مارچ ۱۹۴۴ء کو گنگا رام ہسپتال لاہور میں ہوا۔سیدہ مرحومہ کی آخری علالت میں آپ کو بھی قیام لاہور کے دوران حضرت مصلح موعود کی معیت حاصل رہی۔جنازہ لاری میں رکھا گیا تو حضور نے آپ کو ہدایت فرمائی کہ نعش کے پاس قادیان تک بیٹھیں۔چنانچہ آپ نے اسکی تعمیل کی۔سید نا حضرت مصلح موعود نے ۱۹۵۵ء میں دوسرا سفر یورپ اختیار فرمایا (ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد ہفد ہم ) اس مبارک اور تاریخی سفر میں بھی آپ کو ہمرکابی کا شرف حاصل ہوا۔آپ فرماتے ہیں کہ ”جب حضور ۱۹۵۵ء میں بغرض حصول طبی مشورہ یورپ تشریف لے جارہے تھے تو دس بارہ روز قبل حضور کو علم ہوا کہ میرا پاسپورٹ تیار نہیں کرایا گیا اس پر حضور سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ اگر اُن کا پاسپورٹ نہ بنا تو میں بھی نہ جاؤں گا۔خواہ میرا دولاکھ روپیہ بھی کیوں نہ خرچ ہو گیا ہو۔سفر پر روانگی کے وقت قافلہ دوحصوں میں تقسیم کیا گیا ایک حصہ سیدھالندن گیا جن میں حضور کے گھر کے افراد اور خاکسار تھا اور دوسرے قافلہ میں خود حضور شامل تھے۔