تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 285
تاریخ احمدیت۔جلد 24 285 سال 1967ء کا ون نے آپ کے کام کو دیکھتے ہوئے بجٹ کی منظوری تک اپنی جیب خاص سے الاؤنس دینا شروع کر دیا۔نیز کہا کہ میں نے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب جیسا سب اسٹنٹ سرجن اپنی تمام سروس کے زمانے میں نہیں دیکھا۔آپ کی شہرت دو ایک سال کے عرصہ میں ریاست کے طول وعرض میں پھیل گئی۔یہانتک کہ آپ کو مہاراجہ پٹیالہ کے خاص طبی عملہ میں لیا جانے لگا مگر یہ مرحلہ آپ کی متضرعانہ دعاؤں کی برکت سے رُک گیا۔کیونکہ اس سے آپ کو دین کے برباد ہو جانے کا خطرہ تھا۔حضرت ڈاکٹر صاحب سرکاری فرائض بجا لانے کے ساتھ ساتھ پٹیالہ کی جماعت کے سرگرم رکن تھے۔اور جماعت کی مالی قربانیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔آپکی ان پر جوش سرگرمیوں کے نتیجے میں آپکو پٹیالہ کی جماعت کا سیکرٹری مقرر کیا گیا۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول کی وفات پر آپ اسی حیثیت سے پٹیالہ سے قادیان پہنچے اور نہ صرف حضرت مصلح موعود کے دست مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔بلکہ ۱۵ مارچ ۱۹۱۴ء کے اس تاریخی اعلان پر بھی دستخط کئے۔جو سلسلہ کے بزرگوں اور شمع خلافت کے پروانوں کی طرف سے خلافت ثانیہ کی بیعت کی تحریک کے طور پر الفضل ۱۸ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۴ پر شائع ہوا۔ریاستی ملازمت پر چھٹا سال شروع ہوا تو جناب الہی کی طرف سے آپ کے مستقل طور پر قادیان میں بودو باش رکھنے اور حضرت مصلح موعود کے معالج خصوصی مقرر کئے جانے کے غیبی سامان پیدا ہو گئے۔واقعہ یہ ہوا کہ اس سال ۱۹۱۸ء میں جنگ عظیم اول کے نتیجہ میں انفلوئنزا کی وبا ملک میں پھوٹ پڑی اور قادیان بھی اسکی زد میں آگیا۔حتی کہ حضرت مصلح موعود پر اس مرض کا ایسا سخت حملہ ہوا کہ آپ نے ۱۹ اکتوبر ۱۹۱۸ء کو وصیت بھی لکھوا دی۔حضور کا علاج یونانی اور انگریزی دونوں طریق سے کیا جار ہا تھا۔یونانی علاج حضرت مفتی فضل الرحمن صاحب اور مولوی غلام محمد صاحب امرتسری اور انگریزی علاج ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کر رہے تھے۔لیکن ایک مرحلہ ایسا آگیا کہ دوسرے ڈاکٹر کی ضرورت پڑ گئی۔چنانچہ بیک وقت دوتار حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی طرف سے دیئے گئے۔ایک تار حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کو پانی پت اور دوسرا حضرت ڈاکٹر صاحب کو پٹیالہ بھجوایا گیا۔حضرت ڈاکٹر صاحب اس تار کے ملتے ہی دیوانہ وار اپنے آقا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ نے تحریر فرمایا کہ صاحب سول سرجن پٹیالہ نے بمشکل دودن کی رخصت منظور کی تھی۔ایک 18