تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 280
تاریخ احمدیت۔جلد 24 280 سال 1967ء والے بزرگ تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو رویا و کشوف کی نعمت سے بھی نوازا تھا۔آپ جلسہ سالانہ کے موقع پر ہر سال قادیان اور ہجرت کے بعد ر بوہ جاتے اور اس کی برکات سے مستفید ہوتے۔آپ کی ظاہری تعلیم کچھ نہ تھی سارا ناظرہ قرآن کریم بھی نہیں جانتے تھے۔قرآن کریم پڑھتے مگر کوئی لفظ ذہن میں نہیں بیٹھتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں آپ کے والد نے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا قرآن کریم پڑھتا ر ہے اس خیال سے کہ الفاظ ذہن میں نہیں بیٹھتے قرآن کریم پڑھنا نہ چھوڑے اللہ تعالیٰ چاہے گا تو آہستہ آہستہ ذہن بھی درست ہو جائے گا۔چنانچہ آپ جب تک زندہ رہے قرآن کریم کا وہ حصہ جو آپ جانتے تھے اس کی باقاعدہ تلاوت کرتے رہے۔بڑے عبادت گزار دعا گو بزرگ تھے۔اکثر جب نماز مغرب ادا کر کے مسجد سے باہر نکلتے تو غیر احمدی عورتیں قطار باندھے کھڑی ہوتیں اور درخواست کرتیں کہ آپ ہمارے بچے کو دم کر دیں چنانچہ آپ دم کر دیتے ایک دفعہ آپ سے پوچھا گیا کہ آپ کیا پڑھ کر دم کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا بیٹا میں تو کچھ نہیں جانتا عورتیں مجبور کرتی ہیں تو میں سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کر دیتا ہوں اور ان کو فائدہ پہنچ جاتا ہے۔جماعت کا جو کام بھی آپ کے سپرد کیا جاتا وہ آپ بخوشی کرتے۔حضرت مصلح موعود کی وفات کے موقع پر نہ صرف آپ کو آپ کی وفات سے پہلے خبر دی گئی بلکہ آپ کو مجلس انتخاب میں شریک دکھایا گیا۔آپ کو یہ بھی دکھایا گیا کہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ منتخب ہوئے ہیں۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی نے اپنی کتاب ”حیات قدسی حصہ دوم صفحہ 4ے پر آپ کا ذکر فرمایا ہے۔اولاد شریف احمد صاحب پیر کوئی کلاتھ مرچنٹ حافظ آباد۔( آپ کے بیٹے فہیم احمد خادم صاحب مربی سلسلہ اور دوسرے نصیر احمد شریف صاحب معلم اصلاح وارشاد ہیں ) اقبال احمد صاحب پیر کوئی کریانہ مرچنٹ کرونڈی خیر پور سندھ۔( آپ کے بیٹے اکبر احمد طاہر صاحب مربی سلسلہ ہیں) بشری بیگم صاحبہ اہلیہ فضل احمد صاحب فیکٹری ایریار بوہ۔-۴ زنیب بیگم صاحبہ اہلیہ مرزا حمید اللہ صاحب ناصر آبادر بوہ۔حضرت با با جمال دین صاحب ولادت: ۱۸۸۷ء (اندازاً) بیعت : ۱۹۰۸ء (اندازاً) وفات: ۱۶ مارچ ۱۹۶۷ء