تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 11
تاریخ احمدیت۔جلد 24 11 سال 1967ء کہ مستقل اور عارضی مکین تمہیں بڑی کثرت سے دیئے جائیں گے۔اس لئے تم اپنے مکانوں کو وسیع کرتے چلے جاؤ۔پس ہر گھر میں بھی وسعت مکانی ہونی چاہئے۔اور اُن تعلیمی اداروں میں بھی جن میں جماعتی نظام کے تحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمان ٹھہرتے ہیں۔جلسہ اور ہفت روزہ "المسنجر " (لائل پور ) ہفت روزہ المنبر (فیصل آباد ) نے اس جلسہ کے بارے میں لکھا:۔16 اس سال ربوہ کا جلسہ سالانہ ہوا تو حسب سابق ہی ہے۔مگر اس کے انداز نرالے تھے۔قادیانی امت کے موجودہ سربراہ اور ان کے (خلیفہ اسیح) مرزا ناصر احمد نے ایک با قاعدہ پریس کانفرنس“ منعقد کی۔اس میں شریک تمام اخباری نمائندوں کو مرزا محمود آنجہانی کی تفسیر کا ایک ایک نسخہ بھی دیا گیا اور اس پر یس کا نفرنس میں جماعت احمدیہ کی سیاسی پالیسی واضح کی گئی۔دوسری اہم بات اس مرتبہ یہ ظہور پذیر ہوئی ہے کہ سر ظفر اللہ خان کی اس تقریر کو بھی خوب خوب شائع کیا گیا ہے۔جس میں انہوں نے فرمایا کہ مسلمان ایک خلیفہ یا امیر کی زیر قیادت مجتمع اور متحد ہو جائیں۔تیسری حیرت انگیز بات اس دفعہ یہ منصہ شہود پر آئی کہ پاکستان کے قومی پریس نے اس سال جلسہ ربوہ اور وہاں کی تقریروں اور تصاویر کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔یوں تو اکثر و بیشتر اخبارات نے جلسہ ربوہ کی خبریں شائع کی ہیں۔لیکن خصوصیت کے ساتھ ” نوائے وقت میں خلیفہ ربوہ اور سر ظفر اللہ خان کی تقاریر کو اچھالا گیا ہے۔اور لائل پور کے عوام نے تو ایمان بالقادیانیت کا حق ادا کرنے کی پوری کوشش کی ہے اور سنا گیا ہے کہ عام پر چوں میں قادیانیوں کی تقاریر کے علاوہ سپیشل ایڈیشن مرزا غلام احمد کی نبوت اور مرزا ناصر محمود کی خلافت کے عظیم الشان کارناموں کی تشہیر کے لئے شائع کیا گیا ہے مگر؟ یہ حالات غیر معمولی ہیں۔اور ضرورت ہے کہ جولوگ الف - سید نا محمد مصطفى بآبائنا هو وامهاتنا کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ب۔پاکستان کو اسلامی ریاست دیکھنا چاہتے ہیں اور نظریہ پاکستان کو انہوں نے دیانت داری سے قبول کیا ہوا ہے۔