تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 12
تاریخ احمدیت۔جلد 24 12 سال 1967ء " ج۔اس مملکت خداداد کو تقسیم در تقسیم اور مملکت در مملکت سے بچانے کو اپنے مقاصد میں سمجھتے ہیں۔د۔جن کا ایمان یہ ہے کہ اس امت کی جمعیت کی اساس حضور ختم المرسلین ﷺ بآبائنا هو و امهاتنا کی ذات اقدس اور حضور کی ختم نبوت پر ہے۔18 166 ان سب حضرات کا دینی، اخلاقی، ملی اور سیاسی فرض یہ ہے کہ وہ ان حالات پر غور کریں اور سوچیں کہ جب سر ظفر اللہ خاں یہ فرماتے ہیں کہ :۔تاریخ اسلام اس امر کی بولتی ہوئی دلیل ہے کہ مسلمان ہمیشہ اسی دور میں ترقی و خوشحالی سے ہمکنارر ہے جس دور میں ان پر کسی طاقت ور خلیفہ یا امیر کی حکومت تھی۔تو ان کی مراد کیا ہے؟ کیا وہ اس امر کے قائل ہیں کہ :۔(۱) پوری دنیا میں جو مسلمان قوم آباد ہے۔وہ مرزا غلام احمد کو نبی نہ مان کرد مسلمان رہے ہے؟ (۲) کیا ان کے نزدیک آج عالم اسلام میں کوئی بھی شخص مرزا ناصر احمد کے علاوہ مسلمانوں کا طاقتور خلیفہ یا امیر بن سکتا ہے؟ (۳) کیا یہ ممکن ہے کہ مرزا غلام احمد کی نبوت بشمول سرظفر اللہ خاں و مرز انا صراحمد۔دنیا کے کسی مسلمان خلیفہ یا امیر کو اسلامی خلیفہ تسلیم کریں؟ کیا ان سوالات پر وہ اخبارات جنہوں نے ربوہ کے جلسہ کی روئیدادیں بڑے اہتمام سے شائع کی ہیں اور جنہوں نے اس موقع پر خفیہ خفیہ خاص نمبر شائع کئے ہیں۔غور فرمائیں گے۔اور وہ اہل ربوہ جو مسلمانوں کو اسلام کی تبلیغ اور مسلمانوں کے استحکام کے عنوان سے اپنے قریب لانا چاہتے ہیں۔ان سوالات کا جواب عنایت فرمائیں گے۔دیدہ بائد المنبر کے اس تبصرہ میں چونکہ اہل ربوہ کو بھی مخاطب کیا گیا تھا۔اس لئے روز نامہ الفضل 19 ۱۸ فروری ۱۹۶۷ء کے شمارہ میں اس کا جواب دیتے ہوئے ایڈیٹر صاحب نے لکھا کہ ” جو باتیں آپ نے (الف) (ب) (ج) اور (د) میں فرمائی ہیں ان کے بارہ میں ہم سلسلہ وار عرض کرتے ہیں کہ احمدی خدا تعالیٰ کے فضل سے الف۔سیدنا حضرت محمد مصطفی ﷺ بآبائنا هو وامهاتنا کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔