تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 268
تاریخ احمدیت۔جلد 24 268 سال 1967ء نظارہ تو یہ تھا کہ حالات کی ناسازگاری کے باوجود بھارت کے شمال، جنوب اور مشرق و مغرب سے احمدی نمائندے جلسہ میں موجود تھے۔کشمیر کے احباب خاصی تعداد میں شامل جلسہ ہوئے۔مغربی بہار، بنگال، اڑیسہ، مالا بار، مدراس، حیدر آباد دکن، یو۔پی۔دہلی بمبئی اور دوسرے علاقوں سے احباب آئے ہوئے تھے۔نجی اور افریقہ سے آنے والے احمدی بھی موجود تھے۔ایک دور بین آنکھ کے لئے یہ اجتماع خدا تعالیٰ کے خاص تصرف کا منظر پیش کر رہا تھا۔لوائے احمد بیت لہرایا گیا۔دعائیں ہوئیں۔جلسہ کا پروگرام دوحصوں میں منقسم تھا۔دن کو گیارہ بجے سے اڑھائی بجے تک اور رات کو آٹھ بجے سے دس بجے تک۔یہ سارا پروگرام نہایت عمدہ اور معلومات افزا تھا۔سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ جلسہ عین وقت پر شروع ہوتا اور عین وقت پر ختم ہوتا تھا۔اور ہر تقریر مقررہ وقت میں ختم ہوتی تھی۔نمازوں کے معین اوقات ہیں اور ہر نماز ٹھیک وقت پر ہوتی رہی۔نمازوں میں درد و سوز کا بیان طاقت سے باہر ہے۔تہجد کی نماز بھی ان دنوں مسجد مبارک میں باجماعت ہوتی تھی۔اس کی کیفیت خاص کیفیت تھی۔سب پیر و جوان نماز پڑھتے تھے۔عورتوں کے لئے پردہ کا انتظام تھا۔وہ بھی با قاعدہ نمازوں میں شامل ہوتی تھیں۔بیت الدعا میں دعا اور نوافل کی باری مشکل سے آتی تھی۔دن کا وقت بیت الدعا میں دعاؤں کے لئے مستورات کے لئے مخصوص تھا۔اور رات کو مرد اس جگہ دعائیں کرتے تھے۔سارا وقت ہی بیت الدعا معمور رہتا تھا۔مسجد اقصیٰ کے مینار سے اذانیں کتنی دلر با ہیں۔ہندوؤں اور سکھوں کی بھر پور آبادیوں میں نور کے اس مرکز سے خدا تعالیٰ کی کبریائی اور اس کی توحید کی صدا کتنی اچھی اور ایمان افروز ہے۔یہ کیف کچھ دیکھنے سننے سے ہی تعلق رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار مبارک پر بہشتی مقبرہ میں جا کر رفع درجات اور غلبہ اسلام کے لئے دعائیں کرنے والوں کا تانتا بندھا رہا۔بہشتی مقبرہ اس دور ابتلاء میں خدا کے نیک بندوں کے مال اور ان کی محنت سے خاص ترتیب سے سجایا جا چکا ہے۔پودوں اور پھولوں کی قطار میں اور صفائی بہت دلکش ہے۔حضور انور کی فضل عمر جونیئر ماڈل سکول میں آمد 212 766 مورخہ ۳۰ نومبر ۱۹۶۷ء کوساڑھے چار بجے بعد از نماز عصر حضرت خلیفة المسیح الثالث فضل عمر جونیئر ماڈل سکول تشریف لائے۔حضور کی آمد کے پیش نظر پورے سکول کو رنگ برنگی جھنڈیوں اور مختلف قطعات اور سینریوں سے سجایا گیا تھا۔حضور نے بچوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ پروگرام