تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 262
تاریخ احمدیت۔جلد 24 262 204 سال 1967ء خدمات اسلام کی توفیق کے ساتھ عطا فرمائے اور ان کی خدمات کے بہت مبارک، شاندار نتائج ظاہر ہوں اور روشن نشانوں کا ظہور ہو، ان کے ہاتھوں سے گلشنِ اسلام تمام عالم میں پھیلے۔ان کے ہر ہر قدم پر خدا کا فضل اور اس کی نصرت شاملِ حال رہے۔ان کے دل و جان و دماغ ، زبان و قلم سے خیر و برکت، روحانیت، علم و عرفان اور نور ہدایت کے چشمے جاری رہیں اور دنیا نور ہدایت پاتی رہے۔ان پر رب کریم کا سایہ رحمت رہے اور خدا تعالیٰ ان کو تمام عالم کے لیے سایہ رحمت بنادے۔یہ فرض جس نے ان کے کاندھوں پر ڈالا ہے، جس نے اس کام کے لئے ان کو چن لیا یہ وہی کریم و رحیم و نصیر خدا ولی اور رفیق خدا ان کا دست و بازو بن جائے۔وہ قوی و قادر خدا جس نے یہ بھاری بوجھ اٹھانے کے لئے اس عمر میں پسند فرمایا وہی ان کا ناصر و معین ہو اور زندگی میں خاص برکت، بہت مبارک کاموں کے لئے عطا فرمائے۔خیر ہی خیر رہے خیر کی راہیں کھل جائیں۔آمین (حضرت ) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی ضلع میانوالی میں اہم تقاریر ۱۳،۱۲ نومبر ۱۹۶۷ء کو (حضرت) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے اعزاز میں چشمہ بیراج، میانوالی شہر اور بھکر میں استقبالیہ دعوتوں کا انعقاد عمل میں آیا۔معززین علاقہ آپ کی جاذب شخصیت اور بصیرت افروز تقاریر سے بہت محظوظ ہوئے اور سلسلہ احمد یہ کی اکناف عالم میں دینی خدمات اور ایثار و قربانی کے تذکرہ سے گہرا اثر لیا۔چشمہ بیراج ( گندیاں) کی دعوت عصرانه امام حقانی صاحب ایگزیکٹو انجینیئر ( قائد مقامی ) کی صدارت میں ہوئی۔جس میں تعلیم یافتہ معززین علاقہ کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔ملک فضل الرحمن صاحب سعید صدر جماعت احمدیہ نے سپاسنامہ پیش کیا۔( حضرت ) صاحبزادہ صاحب نے سپاسنامہ کا جواب دیتے ہوئے نہایت دلکش انداز میں حاضرین کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ پیش کیا اور ثابت کیا کہ آپ مکارم اخلاق پر فائز تھے۔آپ نے متعد د تاریخی واقعات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حسنِ سلوک ، محبت اور شفقت کے نتیجہ میں سخت ترین دل رام ہو گئے۔آپ نے ظلم کا انتقام عفو سے لیا اور اعلیٰ صبر و قتل کا نمونہ پیش کیا۔آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی اور بتایا کہ قوموں کی تقدیر بدلنے کا نسخہ محبت اور اعلیٰ اخلاق کے ساتھ حسن سلوک ہے۔کبھی زور بازو سے اخلاق نہیں بدلے جاسکتے۔۱۲ نومبر کی شب میانوالی میں جناب پیرالیں۔اے رشید صاحب افسر خزانہ و مجسٹریٹ درجہ اول