تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 254
تاریخ احمدیت۔جلد 24 254 سال 1967ء مجلس اطفال الاحمدیہ مرکزیہ کا سالانہ اجتماع مورخه ۲۰ اکتوبر ۱۹۶۷ء صبح پونے گیارہ بجے ایوان محمود میں مجلس اطفال الاحمدیہ کے چوبیسویں سالانہ اجتماع کا افتتاح محترم صاحبزادہ (حضرت ) مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ نے فرمایا۔کل ۳۳ مجالس کے ۷۹۰ اطفال نے شرکت کی۔تلاوت نظم کے بعد مہتمم صاحب اطفال نے بیرونی مجالس سے آنے والے اطفال کو خوش آمدید کہا۔اس کے بعد صدر مجلس نے اطفال سے تقریبا نصف گھنٹہ تک خطاب فرمایا اور اطفال کو نماز با جماعت پڑھنے کی تلقین فرمائی۔صدر محترم نے اپنے بچپن کے بعض واقعات سنا کر اطفال کو تلقین فرمائی کہ بچپن کی عادات انسان کی ساری زندگی میں اس کا ساتھ دیتی ہیں۔خطاب کے بعد محترم صاحبزادہ صاحب نے عہد دہر وایا اور اجتماعی دعا 199 کروائی۔100 اختتامی خطاب حضرت خلیفة المسیح الثالث حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے مورخہ ۲۲ اکتو بر ۱۹۶۷ء کو اطفال الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع کی اختتامی تقریب میں اطفال سے خطاب فرمایا۔حضور نے فرمایا کہ آپ جو اس وقت چھوٹی عمر میں میرے سامنے بیٹھے ہیں جس وقت آپ بڑے ہوں گے اور آپ کی عمریں ۴۰،۳۵،۳۰،۲۵ سال کی ہوں گی اس وقت دنیا کی اکثریت اللہ تعالی کو پہچان چکی ہوگی اور وہ آپ سے مطالبہ کرے گی کہ آؤ اور ہمیں اسلام سکھاؤ۔اگر آج اس عمر میں آپ نے اسلام نہ سیکھا تو جس وقت دنیا آپ کو کہے گی کہ آؤ اور ہمیں اسلام سکھاؤ تو آپ انہیں کیسے اسلام سکھائیں گے۔اس لئے میں یہ تو نہیں کہتا کہ دنیا کمانا برا ہے یا دنیا کمانے کی جو راہیں ہیں انہیں آپ اختیار نہ کریں۔لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ تم کوئی اور پیشہ اختیار کرنے کے باوجود علم قرآن اتنا تو سیکھو کہ جب تمہیں دنیا استاد بنانا چاہے تو تم استاد بننے کے قابل ہو۔پھر حضور نے فرمایا کہ ہمارے اندر اللہ تعالی کی محبت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ، قرآن کریم کی محبت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت پیدا ہونی چاہئیے۔فرمایا اگر تمہارے دل میں یہ جبیں بیدار اور زندہ رہیں تو پھر ہمیں کوئی خوف نہیں پھر ہم سمجھیں گے کہ ہم تمہاری تربیت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔200