تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 253
تاریخ احمدیت۔جلد 24 253 سال 1967ء علیہ وسلم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ جس غلبہ کی پیشگوئی فرمائی تھی یہ کام گو بہت اہم اور بہت ہی مشکل ہے لیکن بہر حال ہو کر رہے گا کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے۔مگر اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم انتہائی قربانیاں بھی پیش کریں۔جب ہم انتہائی قربانیاں پیش کریں گے تو پھر ہی اللہ تعالیٰ غلبہ اسلام کا وہ دن لائے گا جس کے لئے مسلمان صدیوں سے تڑپتے چلے آتے ہیں۔حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک ایمان افروز تحریر پڑھنے کے بعد بتایا کہ اس میں حضور نے تین اہم امور پیش کئے ہیں۔جنہیں ہر وقت ہمیں پیش نظر رکھنا چاہئیے :۔۱۔غلبہ اسلام کے متعلق اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر پورا اور کامل یقین ہو۔۲۔اس یقین کے ساتھ ہی یہ جذ بہ بھی ہو کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں انتہائی قربانی دینی ہے۔کیونکہ انتہائی قربانی کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔۳۔ہم میں سے جو ستی دکھائیں گے ان پر غداری کا داغ لگ جائے گا۔اور انہیں عزت کا وہ مقام کبھی حاصل نہ ہو سکے گا۔جوایسے لوگوں کے لئے مقدر ہے جو شروع سے آخر تک ثبات قدم کا نمونہ دکھا ئیں گے۔حضور نے اپنے سفر یورپ کے بابرکت اور نہایت خوشکن نتائج کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح یورپ کی عیسائی دنیا کے خیالات و افکار میں اسلام کے حق میں ایک حیرت انگیز رو پیدا ہوگئی ہے۔لیکن اس رو سے فائدہ اٹھانے کے لئے یہ امر انتہائی ضروری ہے کہ جس طرح دلائل کے میدان میں ہم نے قرآن مجید کے ذریعہ انہیں ساکت کر دیا ہے۔اسی طرح اب عملی نمونہ کے میدان میں بھی انہیں شکست دیں۔حضور نے فرمایا میں بڑے درد کے ساتھ یہ امر آپ کے سامنے رکھتا ہوں کہ اس وقت جو امر اسلام کی ترقی کی راہ میں اہل یورپ کے راستہ میں حائل ہے وہ اسلام کے عملی نمونہ کا فقدان ہے۔اور یہ جماعت احمدیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس روک کو دور کرے۔آخر میں حضور نے فرمایا۔اگر ہمارے دلوں میں خدا تعالیٰ کی حقیقی محبت ہے اگر ہم اسلام سے واقعی پیار کرتے ہیں اگر ہم اپنے محسن اعظم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے واقعی حقیقی عقیدت رکھتے ہیں اور اگر ہمارا یہ دعویٰ صحیح ہے کہ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی جماعت کے ذریعہ ہی اسلام کا غلبہ مقدر ہے۔تو پھر ہم میں سے ہر ایک کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اسلام کے مطابق ڈھالے اور اسلام کا عملی نمونہ پیش کرے تاکہ جلد سے جلد اسلام دنیا پر غالب آجائے۔اس کے بعد حضور نے لمبی پر سوز دعا کرائی۔198-