تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 237 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 237

تاریخ احمدیت۔جلد 24 237 سال 1967ء ہماری جماعت کے دوست تو اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ بات غلط، بے بنیاد اور محض افتراء ہے تاہم میں اس اعلان کے ذریعہ دوسرے دوستوں پر بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ حضرت خلیفہ امسیح نے ہرگز نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی تجدید بیعت کی تحریک جاری کی گئی ہے۔مذہبی جذبات نہایت نازک ہوتے ہیں اور اس دائرے میں کسی کی طرف معمولی سی بات بھی منسوب کرنا تکلیف کا موجب ہوتا ہے۔کجا یہ کہ بے بنیاد طور پر اتنا بڑا دعویٰ منسوب کر دیا جائے۔ہماری جماعت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ حضرت ختمی تاب سرور کائنات فخر موجودات عﷺ کا ایک امتی آنجناب کی غلامی میں اور شریعت قرآنیہ کے تابع ہوتے ہوئے مقام نبوت سے سرفراز ہوسکتا ہے۔لیکن یہ وہی شخص ہو گا جس کو اللہ تعالیٰ خود اپنی وحی کے ذریعہ اس مقام سے سرفراز کرے اور صریح طور پر نبی کے نام اور لقب سے نوازے۔ورنہ نہ کسی کا حق ہے اور نہ کسی شخص کی جرات ہو سکتی ہے کہ ایسا دعوی کرے بلکہ جھوٹے طور پر ایسا دعویٰ کرنے والا بموجب آیہ کریمہ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيْلِ لَاخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ، ہر وقت اللہ تعالیٰ کے غضب اور گرفت کے نیچے ہے۔کسی کی طرف نبوت کا دعویٰ منسوب کرنا اتنی بڑی جسارت ہے کہ اس اخبار کے ایڈیٹر صاحب کو بغیر تحقیقات محض قیاسات پر گمان کر کے اور عواقب کو نظر انداز کر کے ایسا نوٹ شائع کرنا ہرگز مناسب نہ تھا۔ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی کا شرف اب بھی اس امت کے نیک لوگوں کو حاصل ہوسکتا ہے اور تیرہ سو سال میں ہزاروں لاکھوں اولیاء اس شرف سے نوازے گئے اور جیسا کہ امم سابقہ کے اولیاء کو یہ انعام عطا ہوا اسی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اس خیر امت کے بزرگوں کو اس انعام سے حصہ ملا ہے کیونکہ اس امت کے لوگ جس بزرگ ہستی ع کے فیضان اور قوت قدسیہ کے ذریعہ قرب الہی کے درجات حاصل کرتے ہیں وہ اہم سابقہ کو حاصل نہیں لیکن قطع نظر اس سے امر واقعہ کے طور پر یہ ہرگز درست نہیں کہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے کسی پر یس کا نفرنس میں یہ الفاظ استعمال کئے ہوں کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی وحی نازل ہوئی۔جیسا کہ اس پریس کانفرنس کی روئداد شائع کرنے والے بہت سے دوسرے اخبار شاہد ہیں۔پس میں تمام دوستوں تک یہ بات پہنچادینا ضروری خیال کرتا ہوں کہ حضرت خلیفہ امسح الثالث کی طرف جو باتیں منسوب کی گئی ہیں۔وہ ہرگز درست نہیں اور ایسا بیان دینے والے یا کسی گہری غلط