تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 234 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 234

تاریخ احمدیت۔جلد 24 234 سال 1967ء جات، فنڈ ز اور عطیہ جات کے علاوہ کم سے کم اپنی آمد کا۱/۱۶ حصہ دینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔احمدی رہنما کا خاص طور پر یہ کہنا تھا کہ موعود اور متوقع تجدید اسلام اور اس کے نتیجہ میں ساری دنیا پر (اس کا ) غلبہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے اگر مسلمان اسی قسم کی قربانیاں دینے کے لئے تیار ہو جائیں جیسی قربانیاں عظیم رسول اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے دیں اور ان کا مزید کہنا تھا کہ احمدی اسی مقصد کو پانے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں۔احمد نے اس نظریہ کو مستر د کر دیا کہ اسلام اقوام عالم پر پر تشدد ذرائع سے مسلط کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ تاریخ سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا اور (ویسے بھی یہ بات ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام چین کے چار شمالی صوبوں میں رہنے والے لوگوں میں سے اکثریت کا مذہب ہے لیکن کوئی بھی ایسا تاریخی ثبوت نہیں ملتا جو یہ ثابت کرے کہ اسلامی فوجوں نے کبھی بھی چین پر چڑھائی کی ہو۔ان کا سوال تھا کہ پھر اس قدر بڑی تعداد میں اسلام کو اپنانے والوں سے متعلق کس طرح وضاحت پیش کی جاسکتی ہے۔سیاہ فام مسلمانوں سے متعلقہ سوال کے جواب میں احمدی رہنما کا کہنا تھا کہ اسلام عالمی امن کا مذہب ہے اور فاتح سے نفرت کرنے کو دین کا اساس بنالینا، اس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ان کا کہنا تھا کہ نسلی تعصب ایک ایسی چیز ہے جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔آغاز میں مقامی قائد مجلس مسعوداحمد نے مقامی صحافیوں کو صاحبزادہ مرزا طاہر احمد سے متعارف کروایا۔ان کا کہنا تھا کہ صاحبزادہ طاہر احمد ، بانی جماعت کے پوتے، دوسرے خلیفہ کے بیٹے اور موجودہ امام کے بھائی ہیں۔پریس کانفرنس میں دیگر شخصیات کے علاوہ مولانا ابوالعطاء اور خان شمس الدین خان بھی موجود تھے۔سیرت رسول ﷺ پر ایک پر معارف تقریر ۳ ستمبر ۱۹۶۷ء کو (حضرت) صاحبزادہ صاحب کے اعزاز میں ڈاکٹر غلام اللہ صاحب پاکستان فارسٹ انسٹیٹیوٹ پشاور یونیورسٹی کے مکان پر جماعت احمد یہ پشاور کی طرف سے عصرانہ دیا گیا۔عصرانہ میں یونیورسٹی کے پروفیسر صاحبان و دیگر معزز احباب نے شرکت کی۔عصرانہ کے بعد ڈاکٹر