تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 7
تاریخ احمدیت۔جلد 24 7 سال 1967ء صاحبہ نے ذکر الہی کے موضوع پر تقاریر کیں۔اس کے بعد حضرت سیدہ ام متین صاحبہ نے مستورات کو ڈنمارک میں بننے والی مسجد کی تعمیر کے لئے مزید چندہ کی تحریک کی۔چند لمحات میں نقدی اور زیورات کی صورت میں آٹھ ، نو ہزار کی نقد ادائیگی ہو گئی اور تینتیس ہزار روپے کے وعدہ جات موصول ہوئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے جلسہ سالانہ کے متعلق ایمان افروز تاثرات جلسہ سالانہ کے کامیاب اختتام کے بعد افروری کو حضور انور نے جلسہ کے متعلق اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔وو جیسا کہ میں نے ایک فقرہ گذشتہ جمعہ لکھ کر بھجوا دیا تھا کہ دل خدا کی حمد سے معمور ہے۔اللہ تعالیٰ نے بڑا ہی فضل کیا۔آپ بھائیوں کے ذریعہ سے خصوصاً اور باہر سے آنے والے دوستوں کے ذریعہ سے عموماً خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے بے حد اور بے انتہا مسرت پہنچائی جب جلسہ سالانہ کے بعد یہ رپورٹ ملی کہ امسال دوستوں نے خوردونوش کو ضیاع سے بچانے کا جو خیال رکھا ہے وہ غیر معمولی ہے اور بڑا نمایاں ہے اس کو دیکھ کر دل خدا کی حمد سے بھر گیا کہ اس کی توفیق کے بغیر نہ کوئی فرد نہ کوئی جماعت نیکی کے کوئی کام کر سکتی ہے نہ نیکی کی راہوں کو اختیار کر سکتی ہے۔اس کے علاوہ بعض اور باتیں بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل پر ایک نمایاں شہادت پیش کر رہی ہیں۔مثلاً یہ کہ جلسہ سالانہ رمضان کی وجہ سے اپنی مقررہ تاریخوں پر نہیں ہوا۔۔۔ایک اور روک یہ تھی کہ ان دنوں سکولوں اور کالجز میں چھٹیاں نہیں تھیں۔اور بہت سے بچے یا نو جوان یا بہت سے ماں باپ بھی اپنے بچوں کی وجہ سے جلسہ میں شمولیت نہیں کر سکتے تھے۔سوائے خاص کوشش اور غیر معمولی قربانیوں کے۔وہ جلسہ پر نہ آسکتے تھے۔پس ان تمام روکوں کے باوجود گذشتہ جلسہ کے موقع پر پرچی کے لحاظ سے بھی اور جو گاڑیوں اور بسوں پر سے مسافر اترتے اور ان کی گنتی ہوتی ہے۔(گو سارے مسافروں کی گنتی نہیں ہو سکتی لیکن بہر حال ہر سال ہوتی ہے۔اس سے ہمیں پتہ چلتا رہتا ہے کہ اس سال آنے والوں کی تعداد میں زیادتی ہوئی ہے یا کمی) ہر