تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 228 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 228

تاریخ احمدیت۔جلد 24 228 سال 1967ء ہوئے بتایا کہ جماعت احمدیہ کی مخلص خواتین کی طرف سے مہیا کردہ سرمائے سے کوپن ہیگن (ڈنمارک) میں ایک عالیشان مسجد نصرت جہاں تعمیر کی گئی ہے جس کی رسم افتتاح مسجد مذکور میں مرزا صاحب نے پہلی نماز ادا کر کے ادا کی۔علاوہ ازیں آپ نے کہا کہ میں نے حالیہ دورے میں یورپ کے لوگوں کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ سے زندہ تعلق صرف اسلام ہی کے ذریعے قائم ہوسکتا ہے۔نیز انہیں بتایا کہ اگر تم اپنی زندگیاں سنوارنی چاہتے ہو یا نجات حاصل کرنا چاہتے ہو تو قرآن پر عمل کرو اور حضرت محمد رسول صلى الله اللہ علیہ کے خنک سائے میں آجاؤ۔امام جماعت احمدیہ نے کہا کہ اپنے دورہ یورپ سے واپسی کے بعد پاکستان میں آکر ایک بیان دیا تھا کہ کہ ہم سب مسلمان فرقوں کو اللہ تعالیٰ ، اس کے آخری نبی اور اسلام کی مقبولیت کو ترقی دینے کے جذبے کی خاطر کم سے کم دس بیس سال کے لئے آپس میں صلح کر لینی چاہیئے اور عیسائیت کے مقابلے میں متحد ہو کر یورپی اور افریقی ممالک میں اسلام کی تبلیغ واشاعت کی مہم کو شروع کر کے کامیاب بنانے کی سعی کرنی چاہئے۔“ اس موقع پر روز نامہ شعلہ سرگودھا کا ایک خاص نمبر شائع کیا گیا تھا جس میں مذکور جماعت کے امام صاحب کے حالیہ دورہ یورپ کے حالات وکوائف اور جماعت احمدیہ کی ان خدمات کا ادنی سا خاکہ پیش کیا گیا تھا جو یہ جماعت اسلام کی ترویج واشاعت کے لئے ادا کرتی چلی آرہی ہے اور مرز اصاحب موصوف کی قیادت میں انجام دے رہی ہے۔مذکورہ نمبر میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ جماعت قبل ازیں پانچ مساجد مغربی ممالک میں تعمیر کرا چکی ہے۔مسجد فضل لندن ۱۹۲۴ء میں تعمیر ہوئی۔مسجد مبارک ہیگ (ہالینڈ) ۱۹۵۵ء، مسجد فضل عمر ہمبرگ (مغربی جرمنی ) مسجد نور فرینکفورٹ (مغربی جرمنی (۱۹۵۹ء اور مسجد محمودز یورک ( سوئٹزرلینڈ ) ۱۹۶۲ء میں پایہ تکمیل تک پہنچی۔علاوہ ازیں ادارتی کالموں میں کہا گیا تھا:۔جماعت احمدیہ سے دوسرے مذہبی فرقوں کے اختلافات ایک الگ موضوع ہے لیکن باہر کی دنیا میں اس فرقہ (احمدیوں) کے مبلغین نے اشاعت اسلام کے سلسلے میں جو نمایاں خدمات انجام دی ہیں انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔چونکہ غیر مسلم ممالک میں اسلام ایک عالمگیر مذہب کی حیثیت سے جانا پہچانا جاتا ہے، یورپی ممالک میں عام طور پر اور افریقی ممالک میں خاص طور پر مذہب اسلام