تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 224
تاریخ احمدیت۔جلد 24 224 سال 1967ء سید نا حضرت خلیفتہ المسیح نے صوبائی امارت کی دعوت استقبالیہ سے خطاب کے بعد شیخ محمد اقبال صاحب پراچہ کی کوٹھی میں ایک عصرانہ میں شمولیت فرمائی۔ازاں بعدر بوہ واپس تشریف لے آئے۔روز نامہ امروز نے حضور انور کی اس تقریر کا خلاصہ درج ذیل الفاظ میں شائع کیا:۔تمام مسلمان فرقوں کو اسلام کی سربلندی اور خدا اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ کی خاطر دس یا بیس سال کے لئے آپس میں صلح کر کے تمام فروعی اختلافات کو خیر باد کہہ دینا چاہئیے اور اپنی ساری توجہ 171 66 تبلیغ اسلام پر مرکوز کرنی چاہیئے۔یہاں ضمناً ایک افسوسناک حقیقت کا تذکرہ کرنا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ حضور کی یہ مخلصانہ تحریک سراسر خیر خواہی پر مشتمل تھی۔مگر افسوس اس بے لوث دعوت کا علماء نے یہ جواب دیا:۔خلیفہ ربوہ کی خواہش ہے کہ تمام فرقہ ہائے اسلامی جماعت ربوہ کے کچھوے کو آہستہ آہستہ اپنی منزل کی طرف بڑھنے دیں اور خود خواب خرگوش کے مزے لیتے ہوئے ذرا دس بیس سال کے لئے میٹھی نیند آرام کریں تا کہ جب ان کی آنکھ کھلے تو جماعت ربوہ کے خلیفہ ایک نئی زمین اور ایک نیا آسمان تعمیر کر چکے ہوں۔اگر یہ نیک تحریک کسی اور حلقے کی طرف سے پیش کی جاتی تو اس پر غور کرنے کا سوال پیدا ہوتا تھا۔مولا نا ابوالعطاء صاحب جالندھری مدیر الفرقان“ ربوہ نے اس نوٹ پر یہ دلچسپ تبصرہ فرمایا:۔مدیر صاحب تحریک کو نیک تحریک تسلیم کرتے ہیں مگر صرف اس خطرہ کے پیش نظر اس پر غور کرنے اور اسے ماننے کے لئے تیار نہیں کہ وہ حضرت امام جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش ہوئی ہے۔مدیر لولاک سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے دس بیس سال تک متحد ہو کر تبلیغ اسلام میں صرف کر دیئے تو تحریک احمدیت اس دوران ایک نئی زمین اور ایک نیا آسمان تعمیر کر لیگی۔گویا ان مولویوں پر بے عملی کے علاوہ مایوسی کا بھوت بھی بری طرح سوار ہے۔اگر آپ لوگوں کو جماعت احمدیہ سے اتنا ہی بیر ہے تو چلئے احمدیوں کے علاوہ باقی فرقے ہی تبلیغ اسلام کے لئے متحد ہو جا ئیں اب تو آپ کے قول کے مطابق مسلمانوں کے فرقوں کی حالت یہ ہے کہ:۔مذہبی فرقوں کا اختلاف عناد اور انتشار کی صورت اختیار کر چکا ہے جس سے ملک کے اتحاد کو نا قابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔آئے دن مذہبی فرقوں کے تنازعات اور مناقشات فساد کی شکل اختیار کرتے رہتے ہیں جس سے ملک اور مذہب دونوں کی رسوائی ہوتی ہے۔166 173