تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 223
تاریخ احمدیت۔جلد 24 223 سال 1967ء قریباً سوا نو بجے شب حضور کی تقریر ختم ہوئی۔جس کے بعد جملہ حاضرین نے حضور کی معیت میں کھانا کھانے کی سعادت حاصل کی۔پھر حضور نے لمبی اجتماعی دعا کرائی۔اس طرح یہ اہم اور یادگار تقریب بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔169 سرگودھا میں دعوت استقبالیہ اور حضور انور کا خطاب سفر یورپ سے کامیاب مراجعت کے تعلق میں آٹھویں اور آخری استقبالیہ تقریب ۱۹ نومبر ۱۹۶۷ء بروز اتوار سرگودھا میں منعقد ہوئی۔صوبائی امارت کی طرف سے حضرت مرزا عبدالحق صاحب امیر جماعتہائے احمد یہ سابق پنجاب و بہاولپور نے اپنی کوٹھی ( واقع نمبر 4 را اولڈ سول لائنز سرگودھا) پر استقبالیہ دیا۔جس میں سابق صوبہ پنجاب و بہا ولپور ڈویژن کے تمام امراء اضلاع ، صدرانجمن احمدیہ کے ناظر صاحبان تحریک جدید کے وکلاء، وقف جدید کے ممبران اور دیگر مرکزی عہدیداروں، مقامی جماعت کے کثیر احباب کے علاوہ سرگودھا کے غیر از جماعت احباب بھی کثرت سے مدعو تھے۔حضرت اقدس بارہ بج کر ۲۰ منٹ پر ربوہ سے سرگودھا پہنچے۔چند منٹ انتظار کے بعد حضور نے کوٹھی سے ملحق مسجد میں (جو انہیں دنوں تعمیر ہوئی تھی ) نماز ظہر وعصر پڑھا کر اس کا افتتاح فرمایا۔نماز کے بعد امراء جماعت ہائے اضلاع کے ہمراہ حضور کا فوٹو لیا گیا۔ازاں بعد حضور انتظارگاہ میں، جہاں شامیانے لگے ہوئے تھے، تشریف فرما ہوئے۔جہاں مکرم مرزا عبدالحق صاحب موصوف نے شہر کے غیر از جماعت معززین سے حضور کی ملاقات کرائی۔اس کے بعد حضور کھانے کے لئے تشریف لے گئے۔کھانے سے فارغ ہونے کے بعد تقریب کا آغاز ہوا۔مکرم حافظ مسعود احمد صاحب نے تلاوت قرآن مجید کی۔جس کے بعد مرزا عبدالحق صاحب نے حضور کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا۔جس کے جواب میں حضور نے تقریر فرمائی۔جس میں حضور نے اپنے سفر کے حالات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یورپ کے رہنے والوں کے دلوں کی تختیاں صاف ہو چکی ہیں۔عیسائی عقائد سے وہ بیزاری کا اظہار کر چکے ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں اسلام کی طرف دعوت دی جائے۔تاوہ آنحضرت علی کے ٹھنڈے سایہ تلے جمع ہو کر آئندہ آنے والی ہلاکتوں سے محفوظ ہو جائیں کہ ان کی نجات اسی میں مضمر ہے۔ہے۔170