تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 222 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 222

تاریخ احمدیت۔جلد 24 222 سال 1967ء پیغام کو پہنچانے کے لئے ایسے سامان مہیا کر دیئے جو ہمارے اختیار اور ہماری استطاعت سے بھی باہر تھے۔حضور نے متعدد مثالیں دے کر واضح فرمایا کہ کس طرح غیر معمولی رنگ میں ریڈیو، ٹیلیویژن اور اخبارات کے ذریعے اس پیغام کی وسیع سے وسیع تر اشاعت ہوئی اور زیادہ سے زیادہ افراد تک یہ پیغام پہنچا۔حضور نے فرمایا اگر یہ پیغام اخباروں میں شائع تو ہو جاتا مگر لوگ اسکی طرف توجہ نہ کرتے ظاہر ہے کہ کوئی فائدہ نہ ہوتا۔مگر یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ اس نے نہ صرف غیر معمولی رنگ میں اس کی اشاعت کے سامان مہیا کئے بلکہ لوگوں کی توجہ کو بھی اس طرف پھیر دیا۔چنانچہ اب تک برابر یہ اطلاعیں وہاں سے آ رہی ہیں کہ لوگ اس پیغام میں غیر معمولی دلچسپی لے رہے ہیں وہ اسے توجہ کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اس سے گہرے طور پر متاثر ہورہے ہیں۔الحمد للہ اس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سفر کے دوران جماعت کو جن خاص دعاؤں کی توفیق بخشی انہیں اس نے قبول بھی فرمایا۔چنانچہ جس غرض سے یہ سفر اختیار کیا گیا تھا اس میں اس نے ہمیں خاص کامیابی عطا فرمائی۔الحمد للہ علی ذالک حضور نے فرمایا پھر ایک اور فضل اللہ تعالیٰ نے یہ کیا کہ تربیتی لحاظ سے بھی یہ سفر بہت کامیاب رہا۔بیرونی ممالک کے جو احمدی بھی مجھے ملے ان کے ایمان و اخلاص میں نمایاں اضافہ ہوا اور ساری جماعت میں ہی باہمی محبت اور اخوت کی ایک خاص رو پیدا ہوگئی۔عاجزانہ دعاؤں کے نتیجہ میں ساری جماعت پکھل کر گویا ایک وجود بن گئی اور محبت واخوت کی فضا قائم ہوگئی۔آخر میں حضور نے احباب جماعت کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ اس سفر کے نتیجہ کے طور پر میں وثوق کے ساتھ یہ کہ سکتا ہوں کہ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کا کام دراصل اب شروع ہوا ہے۔کیونکہ اس سفر کے نتیجہ میں وہاں پر اللہ تعالیٰ نے جو تغیرات کئے ہیں اور جس طرح وہ لوگ عیسائیت سے متنفر ہو گئے ہیں اور اب اسلام کے پیغام میں دلچسپی لینے لگے ہیں ان کی وجہ سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم یورپ میں تبلیغ اسلام کی خاص جد و جہد شروع کریں۔ہم نے اب بہت کچھ کرنا ہے اور کرتے چلے جانا ہے۔جب تک کہ غلبہ اسلام کے متعلق اللہ تعالیٰ کے وعدے پورے نہ ہو جائیں۔اس سفر میں اللہ تعالیٰ کے جو فضل ہم پر نازل ہوئے ان کی بناء پر ہماری ذمہ داریوں میں بھی بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ہمیں دعا ئیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور پھر انہیں کما حقہ ادا کرنے کی توفیق دے کہ اس کی توفیق کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں ہیں۔