تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 221 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 221

تاریخ احمدیت۔جلد 24 221 سال 1967ء احمدیہ، وقف جدید انجمن احمد یہ مجلس انصار اللہ مرکز یہ اور مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی طرف سے سپاسنامہ پیش کیا۔168- ان سپاسناموں کے جواب میں حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے ایک بصیرت افروز تقریرفرمائی۔جس کا ملخص درج ذیل ہے۔حضور نے تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ دل اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کے شکر سے لبریز ہے کہ اس نے ہمیں یہاں آج اکٹھے ہو کر بیٹھنے کا موقع عطا فر مایا اور مجھے توفیق بخشی کہ میں اپنے بھائیوں کے دلی جذبات سے آگاہ ہوسکوں۔یہ تقریب اس رنگ میں ایک نرالی شان رکھتی ہے کہ میرے سامنے میرے ہزاروں پیارے بھائی میزبان کی حیثیت سے نہایت محبت و اخلاص کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ آج میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو ایک اور زاویہ نگاہ سے آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ دنیا اپنے رب کو بھول چکی ہے۔دعاؤں پر اسے اعتقاد نہیں رہا صرف اور صرف آپ ہی وہ خوش قسمت جماعت ہیں۔جو دعاؤں پر زندہ یقین رکھتے ہیں اور دعاؤں کی قبولیت کے نتیجہ میں یہ مشاہدہ بھی کرتے ہیں کہ کس طرح ہمارا رب ہمارے ساتھ پیار اور محبت کا سلوک کرتا ہے۔میرے اس سفر کے دوران ساری دنیا کے احمدیوں کو غیر معمولی طور پر میرے سفر کی کامیابی اور دنیا میں غلبہ اسلام کے لئے دعائیں کرنے کی توفیق ملی ہے۔دنیا کے ہر حصے سے بکثرت احباب جماعت کے خطوط مجھے ملتے رہے۔حتی کہ چھوٹے چھوٹے معصوم احمدی بچوں کے خط بھی مجھے ملے۔جن میں انہوں نے لکھا تھا کہ ہم خاص طور پر آپ کے لئے دعائیں کر رہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ساری جماعت کا دعاؤں کی یہ توفیق پانا بھی اللہ تعالیٰ کا ایک بڑا فضل ہے۔جو اس سفر کے نتیجہ میں حاصل ہوا۔پھر دوسر افضل یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان دعاؤں کو قبول بھی فرمایا اور جس مقصد کی خاطر یہ سفر اختیار کیا گیا تھا۔اس میں معجزانہ رنگ میں ہمیں کامیابی بخشی۔حضور نے فرمایا کہ جیسا کہ سب دوستوں کو علم ہے اس سفر سے میرا بڑا مقصد اہلِ یورپ کو یہ انذار کرنا تھا کہ اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اسلام کے سایہ تلے جمع ہو جاؤ۔ورنہ تمہیں ہولناک تباہی کا سامنا کرنا ہوگا۔سو یہ مقصد اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے رنگ میں پورا ہوا جس کا ہمیں وہم و گمان بھی نہ تھا۔اللہ تعالیٰ کے خاص تصرف نے اس