تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 217
تاریخ احمدیت۔جلد 24 217 سال 1967ء یہ چوہدراہٹ ریت کی دیوار کی طرح گر رہی ہے۔مرزا صاحب کے اس جملے سے میری نظر سامنے گھومتے ہوئے بیروں اور ویٹروں پر گئی جو مجھے ریت کی دیوار میں معلوم ہورہے تھے۔کالجوں سے نئے نئے نکلے ہوئے یہ نوجوان مغرب کی تلاش میں ہاتھوں میں طشتریاں لئے ہراساں کھڑے تھے ولائتی بیروں کے آداب سیکھنے میں نہ جانے انہیں کتنا وقت لگے۔شاید اس وقت تک سورج مغرب میں ڈوب چکا ہو۔166 جامعہ نصرت کی استقبالیہ تقریب میں حضرت خلیفہ المسح الثالث کی شمولیت ۱۲ اکتوبر ۱۹۶۷ء کو چھٹی استقبالیہ تقریب جامعہ نصرت ربوہ کی طرف سے منعقد ہوئی۔جس میں پرنسپل اور اساتذہ جامعہ نصرت کی طرف سے سٹاف سیکرٹری نے سپاسنامہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔پھر صدر یونین نے طالبات کی طرف سے سپاسنامہ پیش کیا۔(طالبات کے سپاسنامہ کی ایک خوشخط نقل شعبہ تاریخ احمدیت میں محفوظ ہے) پیشکر دہ سپاسناموں کے جواب میں حضور نے ایک اہم خطاب فرمایاا ور احمدی مستورات اور بچیوں کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔حضور نے فرمایا سب سے قبل میں پیش کردہ سپاسناموں کا شکر یہ ادا کرتا ہوں۔پھر فرمایا کہ کو پن ہیگن کی مسجد نصرت جہاں کو عظیم الشان مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔افتتاح کا نظارہ مختلف ممالک میں ٹیلی ویژن کے ذریعہ کروڑوں لوگوں نے دیکھا۔سعودی عرب میں یہ تصویریں دو دفعہ دکھائی گئیں۔افتتاحی تقریب کے مناظر سکینڈے نیویا، جرمنی ، سعودی عرب، مصر، نائیجیریا، غانا اور سیرالیون میں دکھائے گئے۔ہوسکتا ہے اس وقت تک امریکہ میں بھی یہ مناظر دکھائے جاچکے ہوں۔کیونکہ انہوں نے بھی اس کا مطالبہ کیا ہے۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے لیکن اس کے مقابل جو ذمہ داریاں ہم پر عائد ہوتی ہیں وہ بہت اہم ہیں۔کوپن ہیگن کی ایک صحافی خاتون کو میں نے بتایا کہ ہم دلوں کو فتح کر کے اسلام کو غالب کریں گے تو اس نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ ہمارے دل لیکر آپ کیا کریں گے؟ تو میں نے جواب دیا کہ ہم لوگوں کے دل جیت کر اپنے پیدا کرنے والے کے قدموں میں جا رکھیں گے۔میرے اس فقرہ نے اسے بے حد متاثر کیا۔میرا یہ جواب آپ کی اور میری ایک اہم ذمہ داری کا اعلان بھی ہے۔ہمیں یہ جائزہ لینا چاہئیے کہ کیا ہمارے دل ہمارے محبوب مولا کے قدموں میں پڑے