تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 216 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 216

تاریخ احمدیت۔جلد 24 216 سال 1967ء میں نے جواب دیا کہ کہ بچے عیسائی کے بارے میں تو تم خود کوئی مثال دو۔البتہ سچے مسلمان کی زندہ مثال یہ ہے کہ پینسٹھ کی جنگ میں پاکستانی فوج کے ایک میجر کو ( جن کا نام میں دانستہ حذف کر رہا ہوں ) سیالکوٹ کے محاذ پر بھیجا گیا۔ماں آخر ماں ہوتی ہے اُس نوجوان میجر کی ماں بھی دوسری ماؤں کی طرح اپنے بیٹے کی زندگی کے لئے دعائیں مانگتی۔لیکن اس کے دل کو سکون اور چین نصیب نہیں ہوتا تھا۔ایک شب ماں کو بشارت ہوئی کہ پاکستان دشمنوں سے محفوظ رہے گا لیکن یہ اشارہ بھی اسے تسکین نہ دے سکا۔اسے پھر بشارت ہوئی کہ سیالکوٹ کا محاذ اللہ کی حفاظت میں ہے۔لیکن ماں کا دل پھر بھی بیٹے کے لئے بے چین رہا۔اس کے بعد اسے پھر بشارت ہوئی کہ اس کا بیٹا اللہ کی امان میں ہے۔اس بشارت سے اس ماں کو اس قدرسکون قلب نصیب ہوا کہ اس نے پھر یہ سوچا ہی نہیں کہ اس کا بیٹا محاذ جنگ پر ہے۔اسے یہ سکون قلب کس جذبہ نے دیا ؟ یہ جذبہ اسے اللہ پر کامل ایمان لانے سے حاصل ہوا اور یہی ایمان کامل بچے مسلمان کی دلیل ہے۔“ سماجی گراوٹ سے بیزاری حضرت صاحب سے ایک اخباری نمائندے نے سوال کیا کہ آج ہم مغربی اخبارات اور لٹریچر پڑھتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ یورپ اپنی اخلاقی اور سماجی گراوٹوں سے خود بیزار ہو چکا ہے۔لیکن پھر بھی وہ ان گراوٹوں سے کنارہ کش کیوں نہیں ہوتا۔انہوں نے اس سوال کے جواب میں ایک واقعہ سنایا کہنے لگے ”جب میں تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کا پرنسپل تھا تو میرے ایک ذاتی دوست جو بہت بڑے زمیندار تھے مجھ سے اکثر ملنے آیا کرتے۔گھنٹوں اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے اور میری باتوں میں دلچسپی بھی لیتے۔ایک دن میں نے ان سے کہا کہ تم بہت سمجھدار ہو۔بہت ہی اچھی باتیں کرتے ہو۔ہماری جماعت میں کیوں نہیں شامل ہو جاتے۔اس پر وہ بولے حضرت صاحب سب کچھ ہوسکتا ہے لیکن یہ نہیں ہوسکتا۔میں نے پوچھا کہ کیوں؟ تو وہ کہنے لگے کہ دیکھئے ناجی ! ہمیں تو اپنی زمینداری قائم رکھنی ہے اور زمینداری قائم رکھنے کے لئے ہمیں قتل اور اغواء بھی کروانے پڑتے ہیں ڈا کے بھی ڈلوانے پڑتے ہیں جھوٹے مقدمے بھی کروانے پڑتے ہیں اور اگر میں آپ کی جماعت میں شامل ہو جاؤں تو پھر ایسا نہیں کر سکوں گا۔کیونکہ آپ تو میری گردن پکڑ لیں گے اور میری چوہدراہٹ کا بھٹہ بیٹھ جائے گا۔یہی حال یورپ کا ہے جو سمجھتا سب کچھ ہے۔لیکن اپنی چوہدراہٹ کا بھٹہ نہیں بٹھانا چاہتا۔حالانکہ