تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 211 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 211

تاریخ احمدیت۔جلد 24 211 سال 1967ء حضور نے مسجد احمدیہ گلڈ نہ میں ارشاد فرمایا۔اس پر معارف خطبہ میں احباب جماعت کو توجہ دلائی کہ دُنیا بھر میں غلبہ دین کی ذمہ داری اب ہمارے کندھوں پر ڈالی گئی ہے۔ہمارے پاس کوئی مادی طاقت اور ظاہری اسباب نہیں ہیں۔ہمارا ہتھیار صرف دُعا ہے۔جماعت کا فرض ہے کہ وہ اس ہتھیار کی قدرو قیمت کو پہچانے اور دعاؤں پر پورا زور دے۔قبولیت دعا کے لئے فنافی الرسول کے مقام پر قائم ہو کر مجاہدہ کرنا ضروری ہے۔اس کے بغیر انسان افضال الہی کا مورد نہیں بن سکتا ہے۔۲۴ ستمبر کو حضور نے بیرونجات کے احمدیوں کے علاوہ ایک مقامی کالج کے ممبرانِ سٹاف اور طلبہ کو شرف ملاقات بخشا۔مزید برآں بہت سی خواتین نے بھی تشریف لا کر حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ مدظلّها العالی اور محترمہ سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ سے ملاقات کی۔۲۹ ستمبر کے خطبہ جمعہ ( بمقام مسجد احمد یہ کلڈ نہ مری) میں حضور نے مخلصین جماعت کو تحریک فرمائی کہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے بچوں کے دلوں میں اس احساس کو زندہ رکھیں کہ عظیم فتوحات کے دروازے اللہ تعالیٰ نے اُن کے لئے کھول رکھے ہیں۔لیکن ان دروازوں میں داخل ہونے کے لئے عظیم قربانیوں کی ضرورت ہے۔حضور ۳۰ ستمبر کو صبح نو بجے مری سے روانہ ہوئے۔مکرم چوہدری احمد جان صاحب امیر جماعت احمد یہ راولپنڈی جو مری آئے ہوئے تھے حضور کے ہمراہ جہلم تک آئے۔راستہ میں اسلام آباد کے قریب جماعت احمد یہ راولپنڈی کے احباب بہت کثیر تعداد میں جمع تھے۔ور نے موٹر سے اتر کر سب احباب کو شرف مصافحہ بخشا۔وہاں سے روانہ ہو کر ایک بجے دوپہر کے قریب جہلم تشریف لائے اور وہاں اپنی صاحبزادی امتہ الشکور صاحبہ بیگم مکرم نواب شاہد احمد خان صاحب کے ہاں قیام فرمایا۔سہ پہر کو حضور انور منگلا ڈیم دیکھنے تشریف لے گئے۔وہاں سے واپس آکر حضور نے جہلم کے احباب کے علاوہ گجرات اور گوجرانوالہ کے احباب جو خاصی تعداد میں آئے ہوئے تھے کو شرف ملاقات بخشا۔اور اگلے روز یکم اکتوبر ۱۹۶۷ء کو جہلم سے روانہ ہو کر کھاریاں تشریف لائے۔جہاں کھاریاں اور اس کے مضافات کے احباب کثیر تعداد میں آئے ہوئے تھے۔حضور نے سب کو شرف مصافحہ بخشا اور کھاریاں تعلیم الاسلام ہائی سکول کی عمارت کی بُنیا درکھنے کے لئے ایک اینٹ پر دُعا کی اور پھر بخیریت ایک بجکر چالیس منٹ پر ربوہ میں رونق افروز ہوئے۔اہل ربوہ نے جو پہلے سے احاطہ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں جمع تھے حضور کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔سب سے پہلے محترم صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب امیر مقامی اور محترم مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل نے آگے بڑھ کر