تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 210
تاریخ احمدیت۔جلد 24 210 سال 1967ء دیگر اعلیٰ سول و فوجی حکام اور معززین شہر بھی شامل تھے۔اس موقع پر حضور نے تمام احباب کو شرف مصافحہ بخشا۔اور بعض سے تفصیلی گفتگو بھی فرمائی۔اس موقع پر جملہ مقامی اخبارات کے نمائندے اور فوٹو گرافر بھی آئے ہوئے تھے۔ساڑھے چھ بجے شام حضور واپس اپنی قیام گاہ پر واپس تشریف لے آئے۔کھانے کے بعد رات ساڑھے گیارہ بجے تک اپنے خدام میں تشریف فرما رہے اور ان کو اپنے روح پرور ارشادات سے نوازتے رہے۔استمبر کو حضور انور نے ساڑھے دس بجے ہوٹل انٹر کانٹی نینٹل تشریف لے جا کر وہاں وسیع پیمانے پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب فرمایا۔کانفرنس نہایت خوش گوار ماحول میں پونے ۲ گھنٹے تک جاری رہی۔تمام مقامی اخبارات اور نیوز ایجنسیوں کے نمائندے اور پریس فوٹوگرافرز اس موقع پر موجود تھے۔حضور نے اپنے سفر یورپ کے کوائف اور نتائج و اثرات سے اخبار نویسوں کو آگاہ فرمایا اور ان کے مختلف سوالوں کے جواب دیئے۔حضور نے اس امر پر زور دیا کہ تمام مسلمان فرقوں کو اپنے اپنے مسلک اور ذرائع کے مطابق بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کا فریضہ ادا کرنا چاہئیے۔پریس کا نفرنس بہت کامیاب رہی۔محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر بھی پریس کانفرنس میں موجود تھے۔اس کے بعد پونے ۲ بجے بعد دو پہر حضور مسجد نور میں تشریف لائے جہاں مقامی جماعت کی طرف سے حضور کے اعزاز میں دعوت طعام کا وسیع پیمانے پر انتظام تھا۔اس موقع پر ضلع راولپنڈی کے علاوہ بعض دیگر اضلاع اور مقامات سے بھی لوگ آئے ہوئے تھے۔مسجد نور سے روانہ ہونے سے قبل احباب کو شرف مصافحہ بخشا۔اس کے بعد حضور مکرم میجر مقبول احمد صاحب کے مکان بیت السلام واقع ڈلہوزی روڈ تشریف لے گئے۔جہاں لجنہ اماءاللہ راولپنڈی کی طرف سے حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ اور حضور کی حرم محترمہ سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کے اعزاز میں دعوت کا اہتمام کیا گیا تھا۔لجنہ اماءاللہ نے اس موقع پر ان کی خدمت میں سپاسنامہ بھی پیش کیا۔۱۸ستمبر کو حضور مع اہلِ قافلہ مری تشریف لے گئے۔روانگی سے قبل حضور نے اجتماعی دعا کرائی اور جماعت راولپنڈی کے ان تمام احباب کو شرف مصافحہ بخشا جو حضور کو الوداع کہنے کی غرض سے آئے ہوئے تھے۔جماعت کا ایک نمائندہ وفد مکرم چوہدری احمد جان صاحب امیر ضلع کی زیر قیادت راولپنڈی سے ۷ امیل دور تک مشایعت کی غرض سے حضور کے ساتھ گیا۔جہاں حضور نے وفد کے ممبران کو شرف مصافحہ بخشا اور انہیں واپس جانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔۲۲ ستمبر کا خطبہ جمعہ