تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 202 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 202

تاریخ احمدیت۔جلد 24 202 سال 1967ء سے وابستہ ہوتی رہیں اور ہر وہ شخص جو اس نکتہ کو نہیں سمجھتا وہ ان برکتوں سے محروم رہ جاتا ہے۔میرا یہ تجربہ ہے ذاتی کہ بعض لوگ جو اس نکتہ کو نہیں سمجھتے ان کے حق میں میری دعائیں قبول نہیں بلکہ رڈ کر دی جاتی ہیں۔۔اسی لئے حضرت مصلح موعود نے ہم خدام کو عہد میں اس لئے شامل کیا تھا کہ جماعت کے نو جوان خلافت سے وابستہ رہیں۔اس حد تک ہر قربانی کرنے کے لئے تیار ر ہیں۔اور اسی میں ہر خیر و برکت ہے۔اس تنظیم کے لئے جو خدام الاحمدیہ کہلاتی ہے۔دوسرا سبق ہمیں یہ دیا گیا تھا محنت کا۔اگر ہم اس سبق پر غور کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ہماری ذمہ داریاں دوسروں کے مقابلہ میں دوہری ہیں۔جو انسان اپنے رب کو نہیں پہچانتا تو اس کی جتنی بھی ذمہ داری ہے۔دنیوی ہے۔اپنے بھائیوں سے تعلق رکھتی ہے لیکن وہ جماعت اور اس جماعت کے نوجوان جو اپنے ربّ کو پہچانتے ہیں اور اسی کا عرفان رکھتے ہیں۔ان کے اوپر ایک طرف۔۔۔حقوق اللہ کی ادائیگی کی ذمہ داری ہے تو دوسری طرف حقوق العباد کی ادائیگی کی ذمہ داری۔لیکن ہر دو گروہوں کی زندگی کے اوقات ایک ہی ہیں وہی چوبیس گھنٹے ایک کو ملتے ہیں۔وہی دوسرے کو ملتے ہیں۔اگر ایک شخص نے ان چوبیس گھنٹوں میں ان دوہری ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہو تو عقل کہتی ہے کہ اپنی رفتار کو ڈبل کر دو۔دگنی رفتار سے چلو تب اپنے مقصد کو پاسکو گے۔تو ہمارے اوپر ذمہ داری چونکہ حقوق اللہ اور حقوق العباد ہر دو کی ادائیگی کی تھی۔اس لئے ہمیں ہمارے پیارے امام مصلح موعود نے کہا کہ محنت کی عادت ڈالو اتنی محنت کرو کہ کوئی دوسرا انسان ( احمدیت سے باہر ) اتنی محنت نہ کرتا ہو۔میں اپنے اس دورہ میں یورپ میں بسنے والوں کو بھی کہتا رہا ہوں اور یہاں بھی میں نے یہ بیان کیا ہے کہ اگلے پچھپیں تھیں سال انسانیت کے لئے بڑے ہی نازک ہیں۔ہمارے ایک مبلغ نے وہاں ایک خواب دیکھی کہ چونسٹھ سال کے بعد وہ واقعات ہوں گے۔انہوں نے مجھے خواب لکھی۔فوری طور پر میرے ذہن میں یہ تعبیر آئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ بتایا ہے کہ جس رفتار سے تم چل رہے ہو۔اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ چونسٹھ سال کے بعد موعودہ واقعات رونما ہونے والے ہیں