تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 4 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 4

تاریخ احمدیت۔جلد 24 4 سال 1967ء فرمایا جو فضل عمر فاؤنڈیشن کی طرف سے طلب کیا گیا تھا۔اس اجلاس میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب چیئر مین فضل عمر فاؤنڈیشن اور ڈائریکٹر صاحبان کے علاوہ بعض بیرونی جماعتوں کے امراء صاحبان اور متعدد دیگر احباب بھی شریک ہوئے۔خلافت ثالثہ کے عہد مبارک کا دوسرا جلسہ سالانہ خلافت ثالثہ کا دوسرا جلسہ جو دسمبر ۱۹۶۶ء میں منعقد ہونا تھا وہ رمضان المبارک کی وجہ سے مؤخر ہو گیا۔اور پھر جنوری ۱۹۶۷ء میں اس کا انعقاد ہوا۔خلافت ثالثہ کے عہد مبارک کے اس دوسرے جلسہ سالانہ (منعقدہ ۲۶، ۲۸،۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء) کے موقع پر پچاسی ہزار فدائیوں کا رُوح پرور اجتماع ہوا۔یہ جلسہ مسجد اقصیٰ اور اس کی گراؤنڈ میں منعقد ہوا۔سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے اس جلسہ کو اپنے چار روح پرور خطابات سے نوازا۔حضور نے جلسہ کے دوسرے دن جب غیر مبایعین کی مسلسل ناکامیوں اور روز افزوں زوال و انحطاط کے مقابل جماعت مبایعین کی عظیم الشان اور غیر معمولی ترقیوں پر روشنی ڈالی تو احباب حضور کی زبانِ مبارک سے نکلے ہوئے ایک ایک فقرے پر بے اختیار نعرے لگاتے رہے۔اور جلسہ گاہ اور اس کا ماحول ان نعروں کی پُر شوکت آوازوں سے گونجتا رہا۔جلسہ کے آخری روز حضور نے ایک نہایت علمی موضوع پر تقریر فرمائی جس میں تفصیل کے ساتھ اُن علمی اور انعامی چیلنجز کا ذکر کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلام کی برتری ثابت کرنے کے لئے دوسرے مذاہب کے لیڈروں کو دیں۔حضور نے واضح فرمایا کہ یہ دعوتیں ، جنہیں دیگر مذاہب کے سرکردہ لوگوں نے قبول نہ کر کے اسلام کی برتری اور غلبہ پر مہر ثبت کی تھی ، آج بھی قائم ہیں اور ہمیشہ قائم رہیں گی۔یہ تقریر علوم و معارف کا ایک گنجینہ تھی ، جس نے سامعین پر وجد کی کیفیت طاری کر دی۔اور انہوں نے بے اختیار ہو کر بار بار نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے۔( یہ تقاریر ” خطابات ناصر جلد اول میں۔شائع کی گئی ہیں) اس کے علاوہ جن بزرگان سلسلہ نے جلسہ سالانہ کے موقع پر تقاریر کیں ان کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:۔(حضرت) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب زمانہ حال کے فکری رحجانات اور اسلام